برصغیر کی نامور گلوکارہ رونا لیلیٰ کی موت کی افواہوں سے متعلق ان کی بیٹی تانی لیلیٰ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مداحوں سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو رپورٹ کرنے کی اپیل کردی۔
جنوبی ایشیاء کی عظیم گلوکارہ اور 6 دہائیوں سے 18 زبانوں میں گانا گانے والی رونا لیلیٰ کی آواز میں مقبول گانا ’دما دم مست قلندر‘ کوک اسٹوڈیو بنگلا کے یوٹیوب چینل پر گزشتہ سال ریلیز کیا گیا، جسے اب تک 17 ملین سے زیادہ لوگ سن چکے ہیں، ان کی موت سے متعلق بنگلادیش میں سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلائی گئیں، جس پر ان کی بیٹی نے شدید ردعمل دیا ہے۔
امریکا میں اپنے خاندان کے ساتھ موجود تانی لیلیٰ نے سوشل میڈیا پر واضح کیا کہ ان کی والدہ حیات اور بالکل صحت مند ہیں۔ انہوں نے رونا لیلیٰ کی حالت تشویش ناک ہونے سے متعلق دعووں اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز اور تصاویر کو جعلی قرار دیا۔
تانی لیلیٰ نے کہا کہ وہ ان پوسٹس، اے آئی سے تیار کردہ یوٹیوب ویڈیوز اور جھوٹی خبروں سے شدید تنگ آچکی ہیں، جو مبینہ طور پر معمولی مالی فائدے کے لیے پھیلائی جا رہی ہیں۔
انہوں نے اپنی والدہ کے 6 دہائیوں پر محیط موسیقی کے سفر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رونا لیلیٰ نے اپنی زندگی کے 60 سال موسیقی کی خدمت کے لیے وقف کیے، اس کے باوجود انہیں اس طرح بدنام کرنا انتہائی افسوسناک اور شرمناک ہے۔
تانی لیلیٰ نے کہا کہ ’میری والدہ بالکل صحت مند اور حیات ہیں، نہ کسی کا انتقال ہوا ہے اور نہ وہ موت کے قریب ہیں۔ یہ تمام ویڈیوز اور تصاویر اے آئی کے ذریعے تیار کی گئی ہیں۔‘‘
انہوں نے رونا لیلیٰ کے مداحوں سے اپیل کی کہ صحت سے متعلق جھوٹی معلومات پھیلانے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو رپورٹ کریں۔
یاد رہے کہ رونا لیلیٰ نے گزشتہ ماہ آسٹریلیا میں 2 میوزک کنسرٹس میں پرفارم کیا تھا، جبکہ انہوں نے بنگلا دیش شلپاکلا اکیڈمی کے زیر اہتمام ایک سولو میوزیکل پروگرام میں بھی شرکت کی تھی۔