برطانوی حکومت کو ہاسلر امیگریشن ریموول سینٹر دوبارہ کھولنے، توسیعی منصوبوں پر عوامی ردعمل کا سامنا

فائل فوٹو۔

برطانوی حکومت کو گوسپورٹ، ہیمپشائر میں ہاسلر امیگریشن ریموول سینٹر کو دوبارہ کھولنے اور توسیعی منصوبوں کی وجہ سے عوام کے زبردست ردعمل کا سامنا کرنا پڑ گیا۔

تارکین وطن کے سب سے بڑے حراستی مرکز جس میں سمندر کنارے سائٹ پر تقریباً چھ سو افراد کی موجودگی پر عوام میں شدید تحفظات پروان چڑھ رہے ہیں۔ سائٹ کے قریب رہنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں کے سامنے آنے کے بعد گھروں کی قیمتوں میں 25 ہزار پاؤنڈ تک کی ریکارڈ کمی ہوئی ہے۔

انھیں خدشہ ہے کہ انہیں مزید نقصان کا سامنا کرنا پڑیگا خریداروں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے وہ حالات کے گردش میں بری طرح جکڑے جائینگے، دو سال سے صبح سویرے شروع ہونیوالے مسلسل تعمیراتی منصوبوں کی وجہ سے انکی زندگیاں جہنم بنی ہوئی ہیں۔

شنید ہے کہ مذکورہ تعمیراتی منصوبوں کے تحت زیر حراست افراد مرکز سے باہر نہیں جائینگے نہ ہی انہیں مقامی علاقوں تک رسائی حاصل ہوگی۔

یورپ میں امیگریشن ہٹانے کا سب سے بڑا مرکز ہیتھرو کے قریب ہارمنڈس ورتھ ہے جس کی گنجائش تقریباً پونے سات سو کے قریب ہے، گھروں کے مالکان کو تشویش ہے کہ تین منزلہ بلاکس انکی جائیدادوں کو براہ راست متاثر کر رہے ہیں۔

امیگریشن ریموول سینٹر 2015 میں بند ہوا لیکن موجودہ منصوبوں کے تحت 2027 میں دوبارہ کھل جائیگا، ابتدائی طور پر 130 بستر جبکہ دوسرے مرحلے میں مزید 470 بستروں کا اضافہ کیا جائیگا۔