کینیڈا، فرانس، اسپین، ناروے سمیت 12 ممالک کی اسرائیلی اشیاء کی درآمد پر پابندی کی حمایت

—فوٹو بشکریہ غیر ملکی میڈیا

برطانیہ کے بعد کینیڈا، فرانس، اسپین اور ناروے سمیت 12 ممالک نے بھی مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیاء کی درآمد پر پابندی کی حمایت کر دی۔

اس حوالے سے برطانوی وزیرِ اعظم اینڈی برنہم کا کہنا ہے کہ کتنے عرصے تک اس خوف سے کارروائی سے گریز کرتے رہے کہ کہیں ہم پر اسرائیل مخالف ہونے کا الزام نہ لگا دیا جائے۔

انہوں نے کہا ہے کہ عملی اقدامات کے بغیر 2 ریاستی حل کی بات بے معنی ہے۔

واضح رہے کہ برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں سے درآمد ہونے والی اشیاء پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

برطانوی وزیرِ خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ بستیوں کی توسیع اور فلسطینیوں کے خلاف تشدد میں ملوث افراد اور اداروں پر مزید پابندیاں بھی لگائی جائیں گی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے برطانیہ کے اقدامات کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسرائیل سے فوجی تعاون روکنے اور عالمی نظام انصاف کی حمایت کرنے جیسے اقدامات کا بھی مطالبہ کر دیا۔

دوسری جانب برطانوی اقدامات کے ردِعمل میں اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس میں برطانوی قونصل خانہ بند کر دیا۔

اسرائیل نے کہا ہے کہ برطانیہ اب غزہ کے لیے امریکا کی قیادت میں قائم رابطہ مشن میں بھی حصہ نہیں لے گا۔