آبنائے ہرمز میں ایران امریکا جنگ خلیج کے پانیوں کیلئے خطرہ بن گئی

—تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا

ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں پر حملوں نے خلیج کے سمندر اور سمندری ماحول کے لیے خطرہ بڑھا دیا۔

عرب میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز امریکا نے 5 ایرانی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا جس کے بعد ایران نے اردن کے الازرق فضائی اڈے پر حملہ کیا۔

اس سے 3 روز قبل بھی امریکا نے 3 ایرانی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا تھا، ایران نے بھی آبنائے ہرمز میں 3 تیل بردار جہازوں اور دیگر امریکی روابط رکھنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

عرب میڈیا کے مطابق 7 ستمبر تک آبنائے ہرمز میں اس بحری راستے سے گزرنے کے منتظر 42 تیل بردار جہاز موجود تھے جن میں 18 تیل سے لدے ہوئے تھے، ان جہازوں میں مجموعی طور پر 1.76 ملین مکعب میٹر، یعنی کہ تقریباً 11.1 ملین بیرل تیل اور پیٹرولیم مصنوعات رکھنے کی گنجائش ہے، کسی بڑے جہاز پر حملے یا اس کے ڈوبنے سے لاکھوں لیٹر تیل سمندر میں پھیل سکتا ہے۔

عمان کے قریب جون سے کیرولین بیزینگی نامی جہاز سے تیل رس رہا ہے جبکہ 3 اگست کو مینوئن پائینیر نامی مال بردار جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سیٹلائٹ کی مدد سے لی گئی تصاویر میں قشم اور سری جزائر کے قریب سمندر میں تیل کے دھبوں کی نشاندہی بھی ہوئی ہے۔

عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ ماہرین کے مطابق خلیج کی مرجانی چٹانیں، مینگروز، سمندری گھاس اور ساحلی ماحولیاتی نظام تیل کی آلودگی سے شدید متاثر ہو سکتے ہیں، 1991ء کی خلیجی جنگ میں تیل کے اخراج سے 770 کلو میٹر سے زیادہ ساحلی علاقہ متاثر ہوا تھا۔

جنوبی فلوریڈا یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق مارچ میں خلیج اور آبنائے ہرمز میں تیل کے رساؤ کے واقعات گزشتہ سال کے مقابلے میں 4 گنا زیادہ ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی آلودگی مچھلیوں، مرجانی چٹانوں (coral reefs) اور دیگر سمندری حیات کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ماہی گیری کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ 

خلیجی ممالک کی تقریباً 65 ملین آبادی سمندری پانی کو میٹھا کر کے حاصل ہونے والے پانی پر انحصار کرتی ہے جبکہ ایران کے جنوبی ساحل پر تقریباً 15 ملین افراد آباد ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سمندری پانی کے مراکز کے قریب تیل کا اخراج پانی صاف کرنے کے عمل کو متاثر اور شدید صورتِ حال میں پلانٹس کو عارضی طور پر بند کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔