سینیٹ قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کا اجلاس، میر رضا قتل کیس پر سندھ پولیس حکام کی بریفنگ

میر رضا: فائل فوٹو 

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کے اجلاس میں میر رضا قتل کیس پر سندھ پولیس کے حکام نے بریفنگ دی۔

چیئر پرسن ثمینہ ممتاز زہری نے سوال کیا آپ نے کیا کِیا؟ کسی کو ہتھکڑیاں لگائیں؟ میر رضا قتل کیس میں جنہوں نے غلط رپورٹ دی ان کے خلاف کیا کِیا گیا؟ 

سندھ پولیس حکام نے کہا کہ ہم نے متاثرہ خاندان سے مکمل تعاون کیا، ہم پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔

عابد شیر علی بولے ہم خود ہی مانے جا رہے ہیں کہ دو مختلف رپورٹس آئیں، اگر کام کرنا ہو تو ریاست قبر سے بھی مردہ لے آتی ہے، جب تک قانون حرکت میں نہیں آئے گا یہ غنڈے ایسے ہی دندناتے پھریں گے، یہ آپ کے اور ہیلتھ کے ادارے کی کوتاہی ہے۔

سندھ پولیس حکام نے بتایا ایس ایچ او کی کوتاہی تھی، ایس ایچ او اور ڈی ایس پی معطل کیے گئے ہیں۔

رکن کمیٹی قرۃ العین مری نے کہا کہ ایس ایچ او کو معطل کرنے کے بجائے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہیے تھا۔

خیال رہے کہ کراچی کا نوجوان میر رضا علی خان 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتہ ہوا تھا، وہ صبح 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا تھا، جس کی لاش 2 روز بعد گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔

پولیس حکام کے مطابق میر رضا کی لاش بہت بری حالت میں ملی تھی، اس کے سینے میں گولی لگی تھی، لاش ملنے سے 1 روز قبل اس کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے گئے تھے۔

مقتول کے والد کا کہنا تھا کہ میر رضا کا 30 اگست کو گلشنِ اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح ہونا تھا اور وہ اپنی نئی شروع ہونے والی زندگی کے حوالے سے بہت خوش تھا۔

میر رضا علی کے پہلے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں خامیوں کی نشاندہی 4 اگست کو جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں کی گئی تھی۔

پروگرام میں پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید اور میر رضا علی کے والد کے سامنے دوبارہ پوسٹ مارٹم کا معاملہ اٹھایا گیا تھا، پروگرام میں بات کرتے ہوئے پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ اور میر رضا کے والد نے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

بعد ازاں عدالتی حکم کے بعد میر رضا کی 8 اگست کو قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کے بعد اسی دن دوبارہ تدفین کر دی گئی تھی۔

ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا کو گولی پیچھے سے لگی تھی، جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے، میر رضا علی کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں، سر اور چہرے پر زخموں کے متعدد نشانات پائے گئے، جسم پر کالے دھبے بھی تھے۔

رپورٹ کے مطابق میر رضا کے پاؤں پر بھی زخم کے نشان ہیں، جسم کے نچلے حصے کے ٹشوز پر بھی خون کے دھبے ہیں، رپورٹ میں میر رضا کی دائیں ران پر تقریباً 12 سینٹی میٹر طویل فریکچر اور زخم کی نشاندہی ہوئی ہے۔

ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا کے جبڑے کے حصے میں گہری چوٹ اور فریکچر کے شواہد ملے ہیں، ناک کی ہڈی اور چہرے کے مختلف حصوں پر بھی چوٹیں پائی گئیں۔