امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک متنازع نقشہ شیئر کیے جانے کے بعد امریکا اور آئس لینڈ کے درمیان سفارتی کشیدگی پیدا ہو گئی۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر بغیر کسی وضاحت کے ایک نقشہ پوسٹ کیا ہے، جس میں امریکا، کینیڈا، گرین لینڈ، آئس لینڈ، میکسیکو اور کیریبیئن کے بعض علاقوں کو ایک ہی زمینی حصے کے طور پر دکھایا گیا ہے۔
پورے نقشے پر امریکی پرچم بنا ہوا ہے اور اسے ’یونائیٹڈ اسٹیٹس آف امریکا‘ کا نام دیا گیا ہے۔
نقشہ سامنے آنے کے فوری بعد آئس لینڈ کی حکومت نے امریکی سفیر بلی لانگ کو وزارتِ خارجہ طلب کر کے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
آئس لینڈ کی وزیرِ اعظم کرسٹرون فروسٹاڈوتیر نے کہا ہے کہ یہ اقدام آئس لینڈ، کینیڈا اور گرین لینڈ کے عوام کی توہین ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ریاستوں کی خود مختاری کا مذاق اڑانے میں کوئی مضحکہ خیز یا معمول کی بات نہیں۔
آئس لینڈ کی وزیرِ خارجہ تھورگیرڈور کترین گونارسدوتر نے بھی نقشے کو ’انتہائی نامناسب‘ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آئس لینڈ ایک خود مختار ملک ہے اور اس کی سر زمین پر کسی غیر ملکی دعوے کی گنجائش نہیں۔