پینٹاگون کے سابق عہدیدار ڈیوڈ ڈیس روشز کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ میں ہونے والے نقصان کو محدود ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔
عرب میڈیا سے حالیہ گفتگو میں ڈیوڈ ڈیس روشز نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کو ’معمولی معاملہ‘ قرار دینے والے صدر ٹرمپ صورتِحال کی شدت اور کشیدگی کو کم ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دوسری جانب آسٹریلوی میڈیا ایس بی ایس نیوز پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ 7 ماہ سے جاری جنگ کو ’چھوٹا معاملہ‘ قرار دیتے ہوئے اسے جنگ کے بجائے ’فوجی تنازع‘ قرار دیا ہے جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی اسے جنگ کہنے سے گریز کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف کارروائی ’بڑی بات نہیں‘ اور امریکا نے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روک کر ’بڑی کامیابی‘ حاصل کی ہے۔
نائب صدر وینس نے بھی کہا ہے کہ اس وقت کوئی فعال فائرنگ نہیں ہو رہی اور شدید جنگ صرف 6 ہفتے جاری رہی۔
ایس بی ایس نیوز میں شامل کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق ٹرمپ اور وینس کی جانب سے جنگ کی شدت کم ظاہر کرنے کی کوشش سیاسی حکمتِ عملی ہے کیونکہ امریکی عوام میں اس تنازع پر بے چینی بڑھ رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے باعث کئی اشیاء کی قیمتوں اور مہنگائی میں اضافہ ہوا جبکہ حکومت عوام کو جنگ کی واضح وجہ، کامیابی کے پیمانے اور فوجی انخلاء کے منصوبے سے آگاہ کرنے میں ناکام ہے۔
امریکی اسٹڈی سینٹر کے ڈائریکٹر تحقیق جیرڈ مونشائن کے مطابق ٹرمپ کے اپنے حامیوں کی ایک قابلِ ذکر تعداد بھی جنگ سے مایوس ہو رہی ہے جس کا اثر نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن جماعت پر پڑ سکتا ہے۔
جیرڈ مونشائن کے مطابق موجودہ صورتِ حال میں ڈیموکریٹس کے ایوان نمائندگان کے ساتھ ساتھ سینیٹ میں بھی اکثریت حاصل کرنے کا امکان بڑھ گیا ہے، دونوں ایوانوں پر کنٹرول کی صورت میں ٹرمپ انتظامیہ کے لیے حکومتی معاملات چلانا انتہائی مشکل ہو سکتا ہے۔
مونشائن کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے دور کے اختتام کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں اور ریپبلکن رہنما بھی سیاسی فائدے کے لیے ایسے صدر سے فاصلہ اختیار کر رہے ہیں جس کی مقبولیت کی شرح 30 فیصد کی سطح تک گر چکی ہے۔