ن لیگ میں 2025ء کے بلدیاتی قانون پر بحث ہو رہی ہے، احسن اقبال

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے انکشاف کیا ہے کہ ن لیگ میں 2025ء کے بلدیاتی قانون پر بحث ہو رہی ہے۔

جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں گفتگو کے دوران احسن اقبال نے بتایا کہ 2022ء میں سابق وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز کی طرف سے منظور کیا جانے والا بلدیاتی قانون 2025ء میں وزیراعلیٰ مریم نواز کے بلدیاتی قانون سے بہت بہتر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس میں سقم یہ ہے کہ ڈپٹی کمشنر کو بلدیاتی ادرے کا وائسرائے بنا دیا ہے، اس قانون سے انتہاپسند سسٹم میں داخل ہوجائیں گے۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ صوبوں نے اختیارات آگے نچلی سطح پر منتقل نہیں کیے، ن لیگ میں 2025 والے بلدیاتی قانون پر بحث ہورہی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ تمام وزرائے اعلیٰ کو پریزنٹیشن میں بتایا کہ اقتصادی اشاریے مستحکم ہوگئے ہیں جبکہ سماجی اشاریے افریقی ممالک کے کیٹیگری میں آتے ہیں۔

احسن اقبال نے کہا کہ 2022ء کا بلدیاتی حکومت کا قانون زیادہ بہتر تھا اس میں میئر اور ضلعی حکومت تھی، نئے بلدیاتی قانون میں سقم ہے کہ ضلعی حکومت ختم کرنے کا مطلب ڈی سی کو بلدیاتی اداروں پر وائسرائے بنانے جیسا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلدیاتی قانون میں کچھ چیزوں پر پارٹی میں بات ہورہی ہے کہ نظرثانی کرنی چاہیے، تجویز دی ہے کہ سینئر پارٹی رہنماؤں کی کمیٹی بنائی جائے جو نئے بلدیاتی نظام کا جائزہ لے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اسلام آباد کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں مقامی حکومت نہیں، جس کے پاس قانون سازی کا اختیار ہو، ہم نے اسلام آباد کےلیے تجویز دنیا بھر کے دارالحکومتوں کے نظام دیکھ کر دی، بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ اسلام آباد کے بجٹ پر یہاں کے لوگوں کا کنٹرول نہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ خطے کے حالات کی وجہ سے پیٹرول کی قیمتیں اوپر جاتی ہیں، جماعت اسلامی نے کچھ تجاویز دی ہیں کہ کچھ مد میں بچت کرکے سبسبڈی دی جاسکتی ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ پالیسی ریٹ کا فیصلہ حکومت نہیں اسٹیٹ بینک کرتا ہے، جماعت اسلامی کی تجاویز وزارتوں کو بھیجی ہیں اگر قابل عمل ہو تو ایک منٹ کی تاخیر نہ کی جائے، جمعرات کو جماعت اسلامی کی ٹیم سے دوبارہ ملاقات ہوگی۔