’کراچی، سکھر موٹروے میں غبن، معاملے کا کیا بنا؟‘

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں کراچی، سکھر موٹروے کے پیسوں میں غبن سے متعلق سوال پوچھ لیا گیا۔

شاہدہ اختر علی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں استفسار کیا گیا کہ کراچی سکھر موٹروے کے پیسوں میں غبن ہوا، معاملے کا کیا بنا؟

وازارت مواصلات کے حکام نے بتایا کہ نیب نے کچھ رقم ریکور کی اور لوگوں کو گرفتار کیا۔

دوران اجلاس معین عامر پیرزادہ نے کہا کہ کراچی سے سکھر ہائی وے کا مسنگ لنک ہے، حکومت ان کو پیسے دے رہی ہیں لیکن پروجیکٹ پر کام نہیں ہورہا۔

حکام نے مزید کہا کہ ایم 6 کے ایک سیکشن کی ذمے داری اسلامی ترقیاتی بینک نےلی، دو سیکشنز ایشین ڈویلپمنٹ بینک اٹھا لے گا۔

کمیٹی کے رکن سید حسین طارق نے پوچھا کہ ایم نائن اتنا خراب ہے کہ عام گاڑی نہیں چل سکتی، آپ کیا کررہے ہیں۔

وزارت مواصلات کے حکام نے کہاکہ اس سڑک کےمسائل ہیں لیکن ہم کام کررہے ہیں، ہم خود ایم نائن کی حالت سے مطمئن نہیں، ایف ڈبلیو او کے متعلقہ حکام کو بلا کر ان سے بات کرلیں گے۔

سیکریٹری مواصلات نے یہ بھی کہا کہ پچھلے ہفتے بھی ڈی جی ایف ڈبلیو او سے بات کرچکا ہوں، ڈی جی ایف ڈبلیو او کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے تحفظات پہنچادوں گا۔

اجلاس میں جگلوٹ ، اسکردو روڈ کا 4 ارب کا کام مکمل نہ ہونے کے معاملے پر بات ہوئی، آڈٹ حکام کے مطابق یہ پروجیکٹ 2025 میں مکمل ہونا تھا لیکن مکمل نہ ہوسکا۔

سیکریٹری مواصلات نے بتایا کہ اس روڈ پر 70 فیصد کام مکمل ہے، دسمبر 2026 تک مکمل کرلیا جائے گا، 16 جگہوں پر لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ باربار روڈ خراب ہوتا ہے، اسی وجہ سے 2 سال میں 4 پل مکمل طور پر اُڑ گئے۔

اس پر چیئرپرسن شاہد ہ اختر علی نے کہا کہ یہ مسائل ہیں تو آپ زیادہ وقت لیں تاکہ رولزکی خلاف ورزی نہ ہو۔