کراچی میں غریب کیلئے آواز اٹھانا پروفیسر کا جرم بن گیا

جامعہ کراچی کے شعبہ علوم اسلامیہ کے سربراہ پروفیسر عارف ساقی سے مار پیٹ کا واقعہ سامنے آیا ہے۔

غریب کےلیے آواز اٹھانا استاد کا جرم بن گیا، بااثر افراد نے بات ماننے کے بجائے تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔

ملزمان نے پروفیسر عارف ساقی کے سر پر پستول کے بٹ مارے، ہوائی فائرنگ کی اور اپنے ریسٹورنٹ میں زبردستی بٹھائے رکھا۔

پروفیسر عارف ساقی نے بتایا کہ صفورا چورنگی پر ڈبل کیبن کے ساتھ سیکیورٹی گارڈز نے رکنے کا اشارہ کیا، پھر تیزی سے ریورس کرتے ہوئے آن لائن ٹیکسی سے ڈبل کیبن ٹکرادی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکسی ڈرائیور نے نقصان بھرنے کا مطالبہ کیا تو ڈبل کیبن سے نکلنے والے شخص نے تشدد کیا، دھکے دیے، گھسیٹ کر ریسٹورنٹ میں لے گئے وہاں بھی مار پیٹ کی۔

پولیس نے 3 افراد کو حراست میں لے لیا، مزید افراد کی تلاش جاری ہے، انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کا واقعے میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کردیا۔