نئی دہلی میں طلبہ ہاسٹل منہدم، 2 افراد ہلاک، 40 سے 50 افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ

فوٹو: بھارتی میڈیا 

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے علاقے ستیہ نکیتن میں اتوار کی دوپہر طلبہ کے لیے قائم پیئنگ گیسٹ (پی جی) عمارت اچانک منہدم ہوگئی، جس کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ 40 سے 50 افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق حادثے کے فوری بعد امدادی ٹیموں نے جائے وقوعہ پر کارروائی شروع کردی جبکہ زخمیوں کو علاج کے لیے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمز) منتقل کیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تاحال ملبے تلے دبے یا زخمی افراد کی درست تعداد معلوم نہیں ہوسکی۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ عمارت گرنے سے قبل ایک زور دار آواز سنائی دی جو زلزلے کے جھٹکے جیسی محسوس ہوئی۔

ایک عینی شاہد کے مطابق عمارت کے اندر موجود افراد نے مدد کے لیے چیخنا شروع کردیا اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت ملبہ ہٹانے میں مصروف ہوگئے۔

ایک عینی شاہد نے بتایا کہ عمارت اچانک زلزلے کی گھن گرج جیسی آواز کے ساتھ ہلنے لگی، جس کے بعد لوگ فوری طور پر باہر نکل آئے۔ عمارت کے منہدم ہوتے ہی ہر طرف دھواں اور گرد و غبار پھیل گیا۔

ایک اور شخص نے بتایا کہ ملبے کے اندر سے اب بھی بچوں کے رونے اور ’’ہمیں بچاؤ‘‘ کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ اس کے مطابق عمارت میں کم از کم 25 سے 30 بچے موجود ہوسکتے ہیں۔

علاقے کے ایک رہائشی نے خدشہ ظاہر کیا کہ قریب واقع ایک اور پی جی عمارت بھی خطرناک حالت میں ہے۔ ان کے مطابق علاقے میں عمارتیں ایک دوسرے سے اس طرح جڑی ہوئی ہیں کہ اگر ایک عمارت منہدم ہوئی تو دوسری عمارتیں بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔

دہلی یونیورسٹی کے 22 سالہ طالب علم گارو واشسٹ نے بتایا کہ عمارت میں تقریباً 50 سے 60 طلبہ موجود تھے۔

ان کے مطابق اتوار کو بارش ہورہی تھی، اس لیے زیادہ تر طلبہ عمارت کے اندر موجود تھے۔ وہ اپنے ایک دوست کی تلاش میں جائے حادثہ پر پہنچا، لیکن تقریباً آدھے گھنٹے کی کوشش کے باوجود اس کا کوئی سراغ نہ ملنے پر اسپتال پہنچا۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ چار افراد کو ٹراما سینٹر لایا گیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ ان میں ان کا دوست بھی شامل ہے یا نہیں۔

کانگریس کی طلبہ تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا کے صدر ونود جاکھر نے الزام عائد کیا کہ جب وہ حادثے کے بعد پی جی پہنچے تو وہاں پھنسے طلبہ کی مدد کے لیے فوری طور پر کوئی موجود نہیں تھا۔

ان کے مطابق نہ پولیس، نہ انتظامیہ، نہ طبی امدادی عملہ اور نہ ہی فائر بریگیڈ فوری طور پر وہاں موجود تھی، جس کے بعد انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ملبہ ہٹانے اور طلبہ کو نکالنے کی کوشش شروع کی۔

دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے عمارت گرنے کے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کو فوری مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

ان کے مطابق امدادی کارروائی میں دہلی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس، دہلی فائر سروسز، دہلی پولیس، میونسپل کارپوریشن آف دہلی، سینٹرلائزڈ ایکسیڈنٹ اینڈ ٹراما سروسز اور سول ڈیفنس کے اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔

ریسکیو اہلکار ملبہ ہٹانے اور ممکنہ طور پر اندر پھنسے افراد کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں، جبکہ مقامی افراد بھی اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیوں میں شریک ہیں۔