وِٹکوف اور جیرڈ کشنر کیف پہنچ گئے، روس یوکرین جنگ کے خاتمے کیلئے امریکی سفارتی کوششیں تیز

فوٹو: رائٹرز 

امریکی نمائندہ خصوصی  اسٹیو وِٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ماسکو میں طویل اور اہم مذاکرات کے بعد یوکرین کے دارالحکومت کیف پہنچ گئے، جہاں واشنگٹن نے روس یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں ایک بار پھر تیز کردی ہیں۔

یہ جنگ شروع ہونے کے بعد وِٹکوف اور کشنر کا کیف کا پہلا دورہ ہے۔ ان کی آمد ایسے وقت میں ہوئی جب روس کی جانب سے یوکرین کے مختلف علاقوں، خصوصاً دارالحکومت کے اطراف، میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

کیف پہنچنے کے بعد امریکی وفد نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وِٹکوف کو وسطی کیف میں واقع تاریخی سینٹ صوفیہ کیتھیڈرل کا دورہ بھی کروایا گیا، جو روسی حملے میں متاثر ہوا ہے۔

یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل سینٹ صوفیہ کیتھیڈرل کی کھڑکیوں اور ان کے فریموں کو روسی حملے سے نقصان پہنچا ہے۔ جمعے کو بھی کیف میں یوکرین کی سیکیورٹی سروس کے ہیڈکوارٹر پر روسی حملہ کیا گیا تھا، جس کے اثرات تاریخی کیتھیڈرل تک پہنچے۔

وِٹکوف اور کشنر سے ملاقات سے قبل صدر زیلنسکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے امریکی نمائندوں کو کیف آنے کی اجازت دی۔

زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین طویل عرصے سے وِٹکوف اور کشنر کے دورے کا منتظر تھا۔

یوکرینی صدر نے ٹیلی گرام پر اپنے پیغام میں کہا کہ یوکرین مذاکرات کے لیے تیار ہے اور ہمیشہ تعمیری کردار ادا کرتا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یوکرین جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے، تاہم اس کے لیے امن کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی ضمانتیں بھی ضروری ہیں۔ ان کے مطابق یوکرین ایک باوقار جنگ کے بعد امن چاہتا ہے اور اس حوالے سے اس کی تجاویز تیار ہیں۔

یوکرینی صدارتی دفتر کے سربراہ کیریلو بودانوف نے بتایا کہ فرانس، برطانیہ اور جرمنی کے نمائندے بھی کیف میں موجود ہیں۔ ان کے مطابق اہم مذاکرات سے بھرپور ایک مصروف دن سامنے ہے۔

وِٹکوف اور کشنر ماسکو میں روسی صدر پیوٹن سے ملاقات کے بعد پولینڈ کے شہر ژیشوف پہنچے۔ روسی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی طیارہ مقامی وقت کے مطابق رات ایک بج کر 31 منٹ پر وہاں اترا، جس کے بعد امریکی نمائندوں نے غالباً ریل کے ذریعے کیف کا سفر جاری رکھا۔

دونوں ممالک نے امریکی وفد کے سفارتی دورے کے دوران 72 گھنٹے کی عارضی جنگ بندی بھی نافذ کی، جس کے تحت روس اور یوکرین نے ایک دوسرے کے دارالحکومتوں ماسکو اور کیف پر فضائی حملے روکنے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ جنگ بندی صرف دونوں دارالحکومتوں تک محدود ہے۔ چنانچہ اتوار کی رات روس نے یوکرین کے دیگر علاقوں پر حملے جاری رکھے، تاہم کیف شہر کو نشانہ بنانے سے گریز کیا۔

یوکرینی فضائیہ کے مطابق روس نے روسی سرزمین سے 108 شاہد طرز کے ڈرون داغے۔ تازہ حملوں میں کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے جبکہ کیف ریجن میں بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا۔

یوکرین کے مختلف علاقوں میں روسی فضائی حملے 11 مقامات پر ریکارڈ کیے گئے، جبکہ کیف ریجن میں روسی حملے کے نتیجے میں بنیادی ڈھانچے کی ایک تنصیب میں لگنے والی بڑی آگ پر قابو پالیا گیا۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مجموعی طور پر 10 یوکرینی شہری ہلاک اور 65 زخمی ہوئے۔

امریکی وفد نے سفارتی سرگرمیوں کے اس انتہائی مصروف دورے کا آغاز ہفتے کو کریملن میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ تقریباً تین گھنٹے طویل ملاقات سے کیا۔

کریملن کی جانب سے جاری بریفنگ کے مطابق مذاکرات کے بعد امریکی نمائندوں نے روسی صدر کے ساتھ عشائیہ بھی کیا۔