جوڈیشل مجسٹریٹ کراچی جنوبی کی عدالت میں ڈیفنس میں نوجوان پر تشدد کرنے کے مقدمہ کی سماعت ہوئی۔ پولیس نے دو ملزمان وقار اور ابراہیم کو عدالت میں پیش کیا۔
ملزمان کے وکیل نے دعوی کیا کہ وائرل ویڈیو آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی ہے، متاثرہ شخص پر دباؤ ڈال کر مقدمہ کروایا جا رہا ہے، ویڈیو کی فرانزک کروائی جائے۔
متاثرہ نوجوان علی جعفری نے دعویٰ کیا کہ دوستوں کے ساتھ ڈیفنس فیز 6 میں کھانا کھانے گیا تھا، کھانا کھا کر باہر نکلا تو سر پر کسی نے ڈنڈا مارا جس سے وہ بےہوش ہوگیا۔
اس موقع پر ملزمان اسے کار میں ڈال کر لے گئے، تشدد کیا جبکہ ایک لڑکا پستول تانے کھڑا رہا، ملزمان معافی مانگنے کا کہتے رہے۔
متاثرہ نوجوان نے بتایا کہ ملزمان نے پیسے مانگے، اس کے اکاؤنٹ سے خریداری کی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ نوجوان کا گزری تھانے کی حدود میں گیمنگ زون میں جھگڑا ہوا تھا، تشدد کا واقعہ 29 اگست کو پیش آیا تھا۔
کراچی ڈیفنس فیز 8 میں نوجوان پر تشدد کرنے والے مرکزی ملزم ملک ابراہیم کو گرفتار کرلیا گیا، واقعے کا مقدمہ ساحل تھانے میں درج کیا گیا ہے، واقعے کی وائرل ویڈیو میں نوجوان پر تین لڑکوں کو تشدد کرتے دیکھا گیا ہے۔