اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر 7 ماہ سے لاپتہ بچی کی بازیابی کیلئے جے آئی ٹی تشکیل

فائل فوٹو۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر 7 ماہ سے لاپتہ بچی عیشا فاطمہ کی بازیابی کیلئے ڈی آئی جی اسلام آباد کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی۔ ایس ایس پی انویسٹیگیشن، ایف آئی اے، آئی بی کے نمائندے اور ایک خاتون پولیس افسر جے آئی ٹی میں شامل ہیں۔ 

عدالت عالیہ نے جے آئی ٹی کو لاپتہ بچی کا سراغ ملنے تک اس کی بازیابی کیلئے کوششیں جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ جے آئی ٹی کو سوشل میڈیا ڈیٹا، مالیاتی ٹرانزیکشنز اور بیرونِ ملک منتقلی کے تمام ممکنہ پہلوؤں کی تفتیش اور پولیس، ایف آئی اے، آئی بی اور تمام دیگر متعلقہ محکموں کے مجاز جے آئی ٹی سے مکمل تعاون کی ہدایت کی گئی۔ 

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے کیس کی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا۔

تحریری حکم نامہ میں کہا گیا کہ لاپتہ لڑکی کی7 ماہ سے عدم بازیابی پر فوری اور مؤثر انویسٹی گیشن کی ضرورت ہے، جے آئی ٹی کے لیے ٹی او آرز بھی عدالتی حکم نامے میں شامل ہیں۔ 

عدالت عالیہ کے حکم نامے میں کہا گیا کہ لاپتہ بچی کا آخری معلوم مقام، نقل و حرکت کا تعین اور لاپتہ ہونے سے قبل یا بعد میں رابطہ کرنے والوں کی شناخت کریں اور تمام متعلقہ افراد، بشمول اہل خانہ، دوستوں، جاننے والوں، گواہوں، مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ اور تفتیش کریں۔ 

عدالت عالیہ نے کہا ایف آئی آر میں بیان کردہ مؤقف تک محدود رہنے کے بجائے تمام نامزد اور مشتبہ افراد کے کردار کا آزادانہ طور پر جائزہ لیں۔ موبائل فون کا ڈیٹا حاصل کرکے اس کا تجزیہ اور گمشدگی کے مقام کی جیو فینسنگ کریں۔

عدالت عالیہ نے مزید کہا گمشدگی کے مقام اور تفتیش کے دوران سامنے آنے والے تمام مقامات کی دستیاب فوٹیج کا جائزہ لیں، قانون کے مطابق ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا شواہد کا جائزہ لیا جائے اور اغوا، جبری اغوا، غیرقانونی حراست، انسانی اسمگلنگ، استحصال یا کسی بھی دوسرے جرم کے امکان کی تحقیقات کریں۔ 

عدالت عالیہ کے حکم نامے کے مطابق جہاں شواہد اس امر کی نشاندہی کریں، ذمہ دار افراد کی شناخت کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور خاندان، گواہوں، مخبروں یا کسی اور ذریعے سے ملنے والی قابلِ اعتبار اطلاع کی تصدیق کر کے اس کا نتیجہ ریکارڈ کریں۔ 

عدالت عالیہ کے حکم نامے کے مطابق معلوم کریں کہ آیا لاپتہ لڑکی کو اسلام آباد کی حدود سے باہر منتقل کیا گیا ہے؟ اگر ایسا ہو تو متعلقہ ضلع کی پولیس اور متعلقہ حکام کے ساتھ فوری رابطہ کرکے اس کی تلاش اور بازیابی کیلیے اقدامات کریں۔ 

عدالت عالیہ نے کہا لڑکی کو پاکستان سے باہر لے جانے کا امکان ہو تو امیگریشن حکام اور دیگر متعلقہ اداروں کے ذریعے فوری طور پر قانونی اقدامات کریں، لڑکی کی بازیابی کی صورت میں فوری طبی معائنہ اور ضرورت پڑنے پر نفسیاتی جائزہ/کونسلنگ کا انتظام کریں۔ 

حکم نامے مطابق سربراہ جے آئی ٹی ہر دو ہفتے بعد جے آئی ٹی اجلاس طلب کریں جس کی کارروائی تحریر کی جائے، رپورٹ میں جے آئی ٹی کے ہر رکن کو سونپے گئے تفتیشی اقدامات اور حاصل ہونے والی پیش رفت کی تفصیلات درج ہوں۔ 

عدالت عالیہ نے کہا کہ پیشرفت رپورٹ میں ’’کوششیں جاری ہیں‘‘جیسے مبہم یا عمومی بیانات شامل نہ کیے جائیں، لڑکی کی بازیابی کیلئے ٹھوس تفتیشی اقدامات اور ان کے نتائج واضح طور پر بیان کیے جائیں، تفتیش کے دوران رکاوٹ ہو یا کسی وفاقی و صوبائی محکمے کی معاونت درکار ہو تو جے آئی ٹی فوری عدالت کو آگاہ کرے گی۔ 

عدالت حکم نامہ میں کہا گیا کہ سربراہ جے آئی ٹی عدالتی آرڈر ملنے کے دو ہفتے بعد پہلی جامع پیشرفت رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔ 

عدالت عالیہ نے کہا رپورٹ میں ہر ٹی او آر پر پیش رفت اور آئندہ مدت کے دوران کیے جانے والے اقدامات کی تفصیل درج ہو۔ 

تحریری حکم نامے میں کے مطابق یہ معاملہ 23 ستمبر 2026 کو پیش رفت رپورٹ جمع کرانے اور مزید کارروائی کے لیے مقرر کیا جاتا ہے۔