امریکی حملوں کے جواب میں ایرانی کارروائیوں پر اردن کے وزیر خارجہ نے تنقید کی، جس پر ان کے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی نے اردنی وزیر خارجہ کو آڑھے ہاتھوں لے لیا۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ایران ایسے حملہ آور کو جواب دینے سے پہلے مزید کتنا انتظار کرے جو اس کی خود مختاری کا احترام نہیں کرتا۔
عباس عراقچی نے اردنی وزیر خاجہ ایمن صفدی کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر ابتدائی امریکی حملوں میں عرب ممالک کی فضائی حدود، زمین اور سمندری حدود استعمال کی گئیں۔ کیا اردنی وزیر خارجہ اس حقیقت سے واقعی لاعلم ہیں؟
انہوں نے کہا کہ کیا انہیں معلوم نہیں کہ انہی راستوں کو استعمال کر کے ایران پر حملے کیے گئے، جن میں بےگناہ ایرانی شہری مارے گئے؟
واضح رہے کہ اردن کے وزیر خارجہ ایمن صفدی نے ایرانی کارروائی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ایران نے امریکی حملے کے صرف دو گھنٹے بعد اردن اور خطے کے دیگر ممالک کو نشانہ بنایا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس لیے اسے ایران کی جوابی کارروائی قرار نہیں دیا جاسکتا۔