وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پمز اسپتال میں دن گزارا اور مختلف وارڈز کا معائنہ کیا اور مینٹیننس آڈٹ کی رپورٹ طلب کر لی۔ کارڈیک سینٹر کے پرائیوٹ رومز کی خستہ حال دیوار دیکھ کر کہا کہ یہ گرے گی، پینٹ کر کے سب اچھا کی رپورٹ دی جا رہی ہے۔
سانحہ پمز کے بعد وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پمز اسپتال میں پورا دن گزارا اور مخلتف وارڈز و سہولیات کا جائزہ لیا۔ کارڈیک سنٹر میں گئے تو خستہ حال دیوار دیکھ کر انتظامیہ پر برہم ہوگئے۔
وزیر صحت نے کہا کہ دیوار میں نمی کی وجہ سے یہ کسی بھی وقت کر سکتی ہے، اس پر پینٹ کروا کر سب اچھا کی رپورٹ دی جارہی ہے۔
آئی سی یو کے وزٹ کے دوران میں ڈاکٹرز نے وفاقی وزیر صحت کو بتایا یہاں فائر ایکسٹنگوشر نہیں ہیں۔ بیڈز مینول ہیں اور ان کے پہیے بھی خراب ہیں، کسی ہنگامی صورتحال میں انہیں باہر نہیں نکالا جا سکتا۔
مصطفیٰ کمال نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو کہا کہ آپ کو اسپتال کے معاملات سمجھنے کے لیے 6 ماہ نہیں ملیں گے۔ فوری ایکشن لیں۔ ڈاکٹرز نے کہا کہ ہمارے پاس اختیارات نہیں ہیں۔
وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاور بانٹیں، لوگ کام نہیں کرتے تو بےشک روز 10 بندے فارغ کر دیں۔
انہوں نے اسپتال انتظامیہ سے مینٹیننس آڈٹ کی رپورٹ طلب کرلی اور آئی سی یو کی اپ گریڈیشن کے لیے تجاویز بھی طلب کر لیں۔