تنازعات سے بھرپور امریکی وزیرِ دفاع کو انکی اپنی جماعت کے سینیٹر نے ہٹانے کا مطالبہ کر دیا

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ—فائل فوٹو 

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کو اپنی پالیسیوں اور قیادت پر بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا ہے۔

عرب میڈیا پر امریکی وزیرِ دفاع کے تنازعات سے بھرے دور پر خصوصی رپورٹ شائع کی گئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پیٹ ہیگستھ کی اپنی جماعت ریپبلکن پارٹی کے سینیٹر تھام ٹیلیس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ ہیگستھ کو عہدے سے ہٹایا جائے، ٹیلیس نے ہیگستھ پر امریکی فوج کی قیادت میں بدانتظامی اور نااہلی کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی سینیٹر کا یہ مطالبہ فوج کے اعلیٰ عہدیداروں کی مسلسل رخصتی کے بعد سامنے آیا ہے، فوج کے سیکریٹری ڈینیل ڈرسکول نے بھی حال ہی میں استعفیٰ دے دیا ہے۔

پیٹ ہیگستھ جنوری 2025ء میں ایک متنازع سینیٹ ووٹ کے بعد وزیرِ دفاع بنے تھے۔

سابق ٹی وی میزبان اور نیشنل گارڈ کے اہلکار پیٹ ہیگستھ نے فوج میں زیادہ جنگی صلاحیت اور جارحانہ انداز کو اپنی ترجیح بنایا تاہم عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ناقدین کا کہنا ہے کہ ہیگستھ کی پالیسیوں سے پینٹاگون میں عدم استحکام بڑھا ہے۔

سگنل چیٹ تنازع

ہیگستھ کے دور کا پہلا بڑا تنازع مارچ 2025ء میں سامنے آیا جب یمن کے خلاف متوقع فوجی کارروائی پر ایک نجی سگنل گروپ میں حساس معلومات شیئر ہوئیں اور ایک صحافی بھی غلطی سے اس گروپ میں شامل ہو گیا۔

ہیگستھ نے فوجی منصوبوں کے افشا ہونے کی تردید کی تاہم ماہرین کے مطابق حملے کے وقت اور فوجی کارروائی سے متعلق معلومات عموماً خفیہ ہوتی ہیں،  بعد میں ایک سرکاری تحقیقاتی رپورٹ میں بھی خدشات ظاہر کیے گئے کہ معلومات افشا ہونے سے امریکی فوجیوں کی جانیں خطرے میں پڑ سکتی تھیں۔

رپورٹس کے مطابق ہیگستھ نے اپنی اہلیہ، بھائی اور ذاتی وکیل پر مشتمل ایک دوسرے سگنل گروپ میں بھی حساس فوجی معلومات شیئر کیں تاہم ہیگستھ کو ان واقعات پر کوئی باقاعدہ سزا نہیں دی گئی۔

اعلیٰ فوجی حکام کی بڑے پیمانے پر رخصتی

ہیگستھ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پینٹاگون میں اعلیٰ فوجی اور سویلین حکام کی بڑے پیمانے پر تبدیلیاں ہوئیں۔ 

بحریہ کی سربراہ ایڈمرل لیزا فرانشیٹی، کوسٹ گارڈ کی کمانڈنٹ لنڈا فیگن اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سربراہ چارلس کیو براؤن سمیت کئی اہم عہدیداروں کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔

فیگن اور فرانشیٹی اپنے عہدوں پر فائز ہونے والی پہلی خواتین تھیں۔

انتظامیہ نے فیگن کی برطرفی کی وجہ قیادت کی خامیوں اور تبدیلیوں پر ضرورت سے زیادہ توجہ کو قرار دیا۔

کئی دیگر اعلیٰ حکام نے بھی استعفیٰ دیا یا قبل از وقت ریٹائرمنٹ اختیار کی، یہ سلسلہ 2026ء میں بھی جاری رہا اور فوج کے سیکریٹری ڈینیل ڈرسکول کی رخصتی اس کی تازہ مثال ہے۔

فوجی ترقیوں میں رکاوٹ

ہیگستھ نے اعلیٰ فوجی عہدوں پر ترقی کے لیے تجویز کیے گئے درجنوں نام روک دیے جو پینٹاگون کے سربراہ کے لیے ایک غیر معمولی اقدام سمجھا جاتا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق تقریباً 80 افسران کے نام ترقیوں کی فہرست سے نکالے گئے جن میں 1 اور 2 ستاروں والے جنرل بننے کے امیدوار بھی شامل تھے، ناقدین نے سوال اٹھایا کہ کیا وزیرِ دفاع کو اس طرح ترقیوں کو روکنے کا اختیار حاصل ہے؟ یہ بھی کہا گیا کہ ترقی سے محروم کیے جانے والوں میں خواتین اور سیاہ فام افسران کی تعداد غیر متناسب طور پر زیادہ ہے۔

صحافت اور میڈیا سے کشیدگی

پیٹ ہیگستھ کے دور میں پینٹاگون اور صحافیوں کے درمیان تعلقات بھی شدید کشیدہ ہوئے، صحافیوں کی پینٹاگون کے پریس دفتر تک رسائی محدود کی گئی۔

ستمبر 2025ء میں نئی پالیسی کے تحت صحافیوں سے ایسے ضابطے پر دستخط کا مطالبہ کیا گیا جس کی خلاف ورزی کی صورت میں ان کی میڈیا اسناد منسوخ کی جا سکتی تھیں۔

عدالت نے بعد میں اس پالیسی کو آزادیٔ اظہارِ کے آئینی حق سے متصادم قرار دیتے ہوئے روک دیا، اس کے باوجود تنازع جاری رہا۔

گزشتہ ماہ اخبار اسٹارز اینڈ اسٹرائپس کے 3 صحافیوں نے محکمۂ دفاع کے خلاف مقدمہ دائر کیا، ان کا مؤقف تھا کہ ہمیں ادارتی آزادی کے بارے میں اظہارِ خیال کرنے پر برطرف کیا گیا، ہیگستھ نے بعض میڈیا اداروں کی رپورٹنگ کو غیر محبِ وطن بھی قرار دیا۔

’زیادہ سے زیادہ مہلک طاقت‘ کی جنگی حکمتِ عملی

ہیگستھ نے امریکی فوج میں ’مہلک طاقت‘ کو مرکزی اصول بنایا اور ایسے قواعد ختم کرنے کی حمایت کی جنہیں وہ فوجی کارروائی میں غیر ضروری رکاوٹ قرار دیتے ہیں۔

ستمبر 2025ء سے امریکی فوج نے کیریبین سمندر اور مشرقی بحرالکاہل میں منشیات کے اسمگلروں کو دہشت گرد قرار دے کر کشتیوں پر حملے کیے۔

ناقدین کے مطابق ان حملوں میں مارے جانے والوں کی شناخت اور ان کے خلاف ٹھوس شواہد عوام کے سامنے نہیں لائے گئے۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق قانونی ماہرین نے ان کارروائیوں کو ماورائے عدالت قتل قرار دیا جبکہ بعض خاندانوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ہلاک ہونے والے افراد بے گناہ ماہی گیر تھے۔ 

ان حملوں میں اب تک 227 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے، ایک واقعے میں ہیگستھ پر الزام لگا کہ انہوں نے ابتدائی حملے کے بعد زندہ بچ جانے والوں کو دوبارہ نشانہ بنانے کا حکم دیا۔

ہیگستھ نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے رپورٹنگ کو من گھڑت اور اشتعال انگیز قرار دیا۔

ایران جنگ اور شہری ہلاکتیں

فروری 2026ء سے امریکا ایران جنگ میں بھی شامل ہے، ہیگستھ نے اعتراف کیا ہے کہ میں نے ایرانی محاذ پر امریکی فوج کو زیادہ سے زیادہ اختیارات استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔

ان بیانات پر اس وقت شدید تنقید ہوئی جب جنگ کے پہلے روز ایک امریکی ٹوماہاک میزائل ایران کے ایک اسکول سے ٹکرایا جس میں 170 افراد شہید ہوئے، جن میں زیادہ تر بچے شامل تھے۔

اسی ہفتے ایرانی حکام نے الزام لگایا کہ امریکی حملے میں شہر کوہستک میں ایک شادی کی تقریب کو نشانہ بنایا گیا جس میں کم از کم 5 افراد شہید اور 60 سے زائد زخمی ہوئے۔

دفاعی بجٹ اور فوجی وسائل پر سوالات

ہیگستھ کی قیادت میں پینٹاگون نے مالی سال 2027ء کے لیے ریکارڈ 1.5 ٹریلین ڈالرز کا دفاعی بجٹ طلب کیا ہے۔

محکمۂ دفاع اسے آنے والی نسلوں کے لیے ایک بڑی سرمایہ کاری قرار دے رہا ہے تاہم عرب میڈیا کی رپورٹ میں ناقدین نے اپنی رائے میں کہا ہے کہ 42 فیصد اضافے کی مکمل وضاحت کے بغیر فوج ایک طرح سے کھلا چیک مانگ رہی ہے۔

کچھ رقم ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی استعمال ہونے کا امکان ہے۔

ہیگستھ نے جولائی میں سینیٹ کو بتایا تھا کہ ایران جنگ پر اب تک 37.5 ارب ڈالرز خرچ ہو چکے ہیں جبکہ اپریل میں محکمۂ دفاع کا تخمینہ 25 ارب ڈالرز تھا۔

اسی دوران بعض اہم امریکی ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی کی اطلاعات نے بھی یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ آیا امریکا ایران کے ساتھ موجودہ جنگ اور دیگر ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے کافی جنگی وسائل رکھتا ہے۔

بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے الزامات

ہیگستھ اور ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں امریکی فوجی کارروائیوں پر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے الزامات بھی لگے ہیں۔

3 جنوری کو امریکی فوج نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر کے نیویارک منتقل کیا جہاں صدر کو مقدمے کا سامنا کرنا تھا۔

امریکی حکومت نے اسے داخلی قانون نافذ کرنے کی کارروائی قرار دیا جبکہ ناقدین نے اسے وینزویلا کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے پر بھی قانونی ماہرین نے سوال اٹھائے اور اسے بلااشتعال جنگ قرار دیا۔ 

جنگ کے 7 ویں ماہ میں داخل ہونے کے باوجود ہیگستھ پر واضح جنگی اختتام کی حکمتِ عملی نہ ہونے پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔

فوج میں ثقافتی جنگ

ہیگستھ نے امریکی فوج میں ’بیداری پسندی‘ کے خلاف مہم چلائی اور تنوع سے متعلق متعدد پالیسیوں کو غیر فعال کیا۔ 

عرب میڈیا کے دعوے کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی ہدایات کے تحت خواجہ سراء فوجی اہلکاروں کو بھی فوج سے نکالنے کی کارروائی کی گئی۔

ہیگستھ نے فوج میں روایتی مردانہ تصورات پر بھی زور دیا، 30 سال سے زائد عمر کے فوجیوں کے ہارمونل ٹیسٹ اور داڑھی کے خلاف نئے ضوابط جیسے اقدامات اسی پالیسی کا حصہ ہیں۔

پیٹ ہیگستھ پر مذہب اور ریاست کے درمیان حدِ فاصل دھندلانے کے الزامات بھی لگے ہیں، ہیگستھ پینٹاگون میں باقاعدگی سے مسیحی دعائیہ اجتماعات کی قیادت کرتے ہیں اور بعض فوجی کارروائیوں کو مذہبی تناظر میں بھی بیان کر چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر ہیگستھ کا دور فوجی قیادت میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں، ترقیوں میں مداخلت، میڈیا سے کشیدگی، جارحانہ جنگی پالیسیوں، بڑھتے دفاعی اخراجات اور فوج میں ثقافتی تبدیلیوں کے باعث مسلسل تنازعات کی زد میں رہا ہے۔ 

اب اپنی ہی جماعت کے ایک اہم سینیٹر کی جانب سے برطرفی کے مطالبے نے پیٹ ہیگستھ کے مستقبل پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔