امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وزن میں حالیہ اضافے نے ڈاکٹروں کی تشویش بڑھا دی ہے۔
ماہرین کے مطابق 80 سالہ صدر کے وزن میں مزید اضافہ صحت کے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کی صدارتی مہم کے بعد سے ان کے وزن میں تقریباً 20 سے 23 پاؤنڈ کا اضافہ ہوا ہے، جس پر صدر کی صحت پر نظر رکھنے والے طبی ماہرین نے توجہ مرکوز کی ہے۔
دستیاب طبی معلومات کا جائزہ لینے والے ڈاکٹروں نے ٹرمپ کی عمر، بڑھتے ہوئے وزن اور بعض علامات ہاتھوں پر نیل پڑنا، ٹخنوں میں سوجن اور ضرورت سے زیادہ غنودگی شامل ہونے کے ممکنہ خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ علامات، زیادہ وزن کے ساتھ مل کر، دل یا میٹابولزم سے متعلق کسی اندرونی مسئلے کی نشاندہی کر سکتی ہیں۔
حالیہ تصاویر میں بھی ٹرمپ پہلے کے مقابلے میں زیادہ وزنی دکھائی دے رہے ہیں، اگرچہ ان کی صحت سے متعلق کوئی باضابطہ طبی رپورٹ عوام کے سامنے نہیں لائی گئی، تاہم صدر اور ان کے معاونین نے وزن میں اضافے کی تصدیق کی ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ عمر رسیدہ افراد میں وزن میں اچانک یا نمایاں اضافہ مختلف طبی مسائل کی علامت ہو سکتا ہے، جن میں امراضِ قلب، ہائی بلڈ پریشر، ٹائپ ٹو ذیابیطس، جوڑوں اور نقل و حرکت کے مسائل، نیند کے دوران سانس رکنے کی بیماری (سلیپ ایپنیا) اور فالج کا بڑھتا ہوا خطرہ شامل ہیں۔
صدر ٹرمپ کے قد اور وزن پر ان کے دورِ صدارت کے دوران بھی بحث ہوتی رہی ہے، جبکہ ماضی میں ان کے طبی معائنوں کے نتائج پر بعض طبی ماہرین نے شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا۔
تاہم امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ٹرمپ کا باقاعدگی سے طبی معائنہ کیا جاتا ہے اور مجموعی طور پر ان کی صحت اچھی ہے۔