مانچسٹر: ماہرین صحت نے انڈوں سے سالمونیلا نامی وائرس کے خطرات میں پچیس فیصد تک اضافے کی نشاندہی کرتے ہوئے مہلک نتائج سے خبردار کردیا۔
برطانوی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ سالمونیلا کیسز میں 25 فیصد اضافے سے وباء نے زور پکڑا اور ایک برطانوی شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھا جبکہ اڑھائی سو سے زائد لوگ اسکا شکار ہو کر سنگین خرابی صحت کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔
ماہرین صحت کا خیال ہے کہ درآمدی انڈے اس بحران کو جنم دینے کا سبب ہیں۔
سات یورپی ممالک اس وبا سے متاثر ہوئے ہیں جس کے بعد برطانیہ کی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی نے درآمد شدہ انڈوں سے اس وائرس کے تعلق کی نشاندہی کی ہے جبکہ اس پر مزید تحقیقات جاری ہیں۔
ماہرین صحت اس امر کا بھی بغور جائزہ لے رہے ہیں کہ چکن کی مصنوعات بھی اس وائرس کے پھیلاﺅ کا سبب ہو سکتی ہیں یا نہیں۔
یورپی سالمونیلا پھیلنے سے اب تک برطانیہ، ہالینڈ، بیلجیئم، فرانس، جرمنی، آسٹریا اور ڈنمارک متاثر ہوئے ہیں۔
سالمونیلا سے لاحق وسیع خطرات میں پیٹ میں درد، اسہال، شدید پانی کی کمی، خون میں زہر، اعضا کی خرابی اور یہاں تک کہ انسانی جان کو بھی خطرات ہو سکتے ہیں۔
فوڈ اسٹینڈرڈ ایجنسی فوڈ سروس، کیٹرنگ اداروں اور ریستورانوں میں استعمال ہونیوالے انڈوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔