سابق گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے کہا ہے کہ پاکستان میں نئے صوبے بنانے میں کوئی حرج نہیں، تاہم یہ صوبے لسانی یا سیاسی بنیادوں کے بجائے انتظامی بنیادوں پر قائم ہونے چاہئیں تاکہ عوام کو بہتر طرزِ حکمرانی اور مؤثر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
گلاسگو میں اپنے اعزاز میں دیے گئے عشائیے کے موقع پر جنگ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے چودھری محمد سرور نے کہا کہ عوام کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے اختیارات زیادہ سے زیادہ نچلی سطح تک منتقل کیے جانے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ قومی وسائل اور فنڈز کی تقسیم صرف آبادی کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس میں غربت کے خاتمے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت، محصولات میں کردار اور قومی ذمہ داریوں جیسے عوامل کو بھی شامل کیا جانا چاہیے تاکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی زیادہ بہتر اور منصفانہ تقسیم ممکن ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مسئلہ صرف غربت نہیں بلکہ آمدنی اور دولت کی غیر مساوی تقسیم بھی ہے۔ ملکی آمدنی کا ایک بڑا حصہ امیر ترین دس فیصد افراد کے پاس ہے، جبکہ عام آدمی کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔
اس موقع پر بیگم پرویز سرور نے کہا کہ پاکستان میں امیر اور غریب کے درمیان دولت کی تقسیم کے فرق کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ معاشی انصاف کو فروغ دیا جا سکے۔
چودھری محمد سرور اور بیگم پرویز سرور دونوں کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ قدرتی اور انسانی وسائل سے نوازا ہے، ضرورت صرف ان وسائل کو درست منصوبہ بندی، دیانت داری اور شفاف انداز میں استعمال کرنے کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر قومی صلاحیتوں کو مؤثر طریقے سے بروئے کار لایا جائے تو پاکستان جلد دنیا کے باعزت ممالک میں شامل ہو سکتا ہے۔
تقریب میں مدینہ منورہ میں روضہ رسول ﷺ کے خادم اور ڈائریکٹر جنرل رائل پروٹوکول شیخ سید عبداللہ محمد السمن بھی خصوصی طور پر شریک ہوئے۔