امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کی ایک اور اہم جغرافیائی جگہ کا نام تبدیل کرنے کی تجویز دے دی، اس بار ان کا ہدف آبنائے ہرمز ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور سوال اٹھایا کہ کیوں نہ اس کا نام تبدیل کر کے ٹرمپ اسٹریٹ رکھ دیا جائے؟
ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ اب جبکہ یہ ہمارے یعنی امریکا کے کنٹرول میں ہے، کیا ہمیں آبنائے ہرمز کا نام تبدیل کر کے ’ٹرمپ اسٹریٹ‘ رکھ دینا چاہیے؟ امریکا کی طرح یہ بھی پہلے سے کہیں زیادہ ’ہاٹ‘ ہو گا۔
بعدازاں وائٹ ہاؤس نے بھی خلیج کا ایک نقشہ سوشل میڈیا پر جاری کیا، جس میں آبنائے ہرمز کے لیے ٹرمپ کی تجویز کردہ ’ٹرمپ اسٹریٹ‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی، وائٹ ہاؤس نے نقشے کے ساتھ لکھا کہ اس نام کی آواز اچھی لگتی ہے۔
ٹرمپ اپنی دوسری مدتِ صدارت کے دوران بین الاقوامی آبی گزرگاہوں اور جغرافیائی مقامات کے نام تبدیل کرنے کی تجاویز دیتے رہے ہیں، جن میں بعض کو دوسرے ممالک کو چھیڑنے یا طنز کے طور پر بھی دیکھا گیا۔
حالیہ تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کے قریب کشیدگی جاری ہے۔
ٹرمپ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران متعدد مرتبہ آبنائے ہرمز پر امریکی خودمختاری یا کنٹرول کی بات کر چکے ہیں اور ایک نقشہ بھی جاری کر چکے ہیں جس میں اس آبی گزرگاہ کو مبینہ طور پر نیا امریکی علاقہ دکھایا گیا تھا۔
تاہم اس کے کچھ گھنٹے بعد ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کا نام تبدیل کرنے کی تجویز کو خود ہی ہلکا قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ میں اس معاملے میں سنجیدہ نہیں۔
اوول آفس میں ایک صحافی کی جانب سے پوچھے جانے پر کہ کیا وہ واقعی آبنائے ہرمز کا نام تبدیل کرنا چاہتے ہیں، ٹرمپ نے ہنستے ہوئے کہا تھا کہ یہ بس یونہی بات سامنے آ گئی تھی۔
امریکی صدر کی جانب سے حالیہ مثال لیک اونٹاریو کا نام تبدیل کر کے لیک امریکا رکھنا ہے، ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایک حکم نامے پر دستخط کر کے یہ نام تبدیل کیا ہے۔