ناریل پانی غذایت سے بھرپور مشروب، دل اور گردوں کے افعال کو بہتر بناتا ہے، ماہرین

ناریل کا پانی ایک غذایت سے بھرپور مشروب ہے جو جسم میں پانی اور الیکٹرولائٹس کی کمی پوری کرنے کے ساتھ دل اور گردوں کے افعال کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ 

یہ پانی کچے ناریل سے حاصل کیا جاتا ہے۔ ایک درمیانے سائز کے سبز ناریل سے تقریباً آدھا سے ایک کپ ناریل پانی حاصل ہوتا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق ناریل پانی کا تقریباً 94 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے اور اس میں چکنائی کی مقدار کم ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ جسم کو دوبارہ ہائیڈریٹ کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

ناریل کا دودھ ناریل پانی سے مختلف ہوتا ہے۔ اسے کدوکش کیے ہوئے ناریل کو زیادہ درجہ حرارت پر پکا کر اس میں پانی شامل کرنے سے تیار کیا جاتا ہے۔ اس میں تقریباً 50 فیصد پانی ہوتا ہے اور چکنائی کی مقدار ناریل پانی کے مقابلے میں کافی زیادہ ہوتی ہے۔

اگرچہ ناریل پانی غذائیت سے بھرپور ہے، تاہم اسے اعتدال میں استعمال کرنا چاہیے۔ صحت مند بالغ افراد کے لیے مشورہ ہے کہ وہ روزانہ ایک تازہ ناریل سے زیادہ نہ لیں۔ اسے بہتر طور پر دن کے وقت یا جسمانی سرگرمی کے بعد استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ جسم میں پانی اور غذائی اجزا کی کمی پوری ہو سکے۔ گردوں کے امراض میں مبتلا افراد کو ناریل پانی استعمال کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق یہ قدرتی طور پر میٹھا ہوتا ہے اور اس میں کئی اہم معدنیات پائی جاتی ہیں۔ ایک کپ (240 ملی لیٹر) ناریل پانی میں تقریباً 60 کیلوریز، 15 گرام کاربوہائیڈریٹس، 8 گرام شکر موجود ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس میں کیلشیم اور میگنیشیم روزانہ کی مطلوبہ مقدار کا تقریباً 4 فیصد، فاسفورس 2 فیصد اور پوٹاشیم 15 فیصد فراہم کرتا ہے۔

یہ اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات پر مشتمل ہوتا ہے۔ فری ریڈیکلز کی زیادتی جسم میں آکسیڈیٹو اسٹریس پیدا کر سکتی ہے، جس سے خلیات کو نقصان پہنچنے اور مختلف بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ناریل پانی میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس ان مالیکیولز کو بے اثر کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

اسکے علاوہ ناریل پانی ذیابیطس کے شکار افراد میں خون میں شوگر کی سطح کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔ ناریل پانی میں موجود میگنیشیم انسولین کی حساسیت کو بہتر بنانے اور ٹائپ 2 ذیابیطس یا پری ڈائبیٹیز میں بلڈ شوگر کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

ذیابیطس کے مریضوں کو روزانہ ایک سے دو کپ تک محدود مقدار میں ناریل پانی استعمال کرنا چاہیے اور اسے تھوڑی تھوڑی مقدار میں پینا بہتر ہے۔ اسے سادہ پانی کا متبادل نہیں بنانا چاہیے۔ اس میں کاربوہائیڈریٹس موجود ہوتے ہیں جو شکر میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ ذیابیطس یا پری ڈائبیٹیز کے شکار افراد کو ڈاکٹر یا ماہرِ غذائیت سے مشورہ کرنا چاہیے۔

یہ گردے کی پتھری سے بچاؤ کے لیے بھی مفید ہے۔ مناسب مقدار میں پانی پینا گردے کی پتھری سے بچاؤ کے لیے بہت اہم ہے۔ ناریل پانی گردوں اور پیشاب کی نالی میں کرسٹل بننے کے عمل کو کم کرنے اور پیشاب میں کرسٹل کی مقدار گھٹانے میں مدد دے سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ناریل پانی دل کی صحت کے لیے بھی مفید ہے یہ خون میں کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈ کی بلند سطح رکھنے والے افراد میں ان کی مقدار کم کرنے کے ذریعے دل کی بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

اس میں پوٹاشیم کی مقدار بھی کافی زیادہ ہوتی ہے۔ اسکی وجہ سے یہ ہائی بلڈ پریشر یا پری ہائپرٹینشن والے افراد میں بلڈ پریشر کم کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔ اسکے علاوہ ناریل پانی ورزش کے دوران جسم سے خارج ہونے والے پانی اور الیکٹرولائٹس کی کمی پوری کرنے کے لیے ایک صحت بخش مشروب ہو سکتا ہے۔