امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کی کینیڈین کیڈٹس سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹ پر کینیڈا میں شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔
پیٹ ہیگستھ نے پیر کو برٹش کولمبیا کے شہر ورنن میں واقع کیڈٹ تربیتی مرکز کی 2 نوجوان خواتین کی تصویر پوسٹ کی جس کے کیپشن میں ’یہ حقیقت ہے‘ اور ساتھ کینیڈا کے پرچم کا ایموجی بنا تھا۔
ہیگستھ کی پوسٹ پر کینیڈین کیڈٹس کی ظاہری شکل پر توہین آمیز تبصرے کیے گئے جبکہ ناقدین نے ہیگستھ پر نوجوانوں کو نشانہ بنا کر کینیڈا کو بدنام کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
تنازع پر امریکی محکمۂ دفاع کے نائب ترجمان جیکب بلس نے گزشتہ روز کہا کہ ایکس پر کی گئی پوسٹ خود سب کچھ بیان کرتی ہے۔
کینیڈین وزیرِاعظم مارک کارنی نے اس معاملے پر ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں کی جانب سے کینیڈا کی فوج کو بدنام کرنے والے بیانات ان شخصیات کے منصب کے شایانِ شان نہیں۔
برٹش کولمبیا کے وزیرِ اعلیٰ ڈیوڈ ایبی نے بھی ہیگستھ اور امریکی محکمۂ دفاع کے ردِعمل کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے امریکی عوام کو درپیش غیر سنجیدہ، عجیب اور غیر پیشہ ورانہ قیادت قرار دیا ہے۔
کینیڈا کی آرمی کیڈٹ لیگ نے بھی آن لائن ہراسانی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنی بہتری اور کمیونٹی کی خدمت کے لیے کام کرنے والے نوجوانوں کے خلاف توہین آمیز تبصرے ناقابلِ قبول ہیں۔
یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تجارتی مذاکرات میں تعطل اور ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں کی جانب سے کینیڈا کی فوج پر تنقیدی بیانات کے باعث کینیڈا اور امریکا کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
واضح رہے کہ کینیڈا کا کیڈٹ پروگرام 12 سے 18 سال کی عمر کے نوجوانوں کے لیے ہے۔