مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر نے اسرائیلی قابض فورسز کی سیکیورٹی میں مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہو کر یہودی مذہبی رسومات ادا کیں اور مقدس مقام پر یہودی عبادت گاہ قائم کرنے کا عندیہ دیا۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بن گویر گزشتہ روز متعدد یہودی مذہبی پیشواؤں، آبادکاروں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ہمراہ مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوئے۔
فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق اتمار بن گویر نے مسجد کے صحن کے مشرقی حصے میں یہودی مذہبی رسومات ادا کیں اور دعائیں مانگیں۔
اس موقع پر بن گویر نے کہا کہ جب میں 14 سال کا تھا تو یہاں دعا کرنا ممنوع تھا اور معمولی اونچی آواز میں دعا کرنے والے افراد کو بھی گرفتار کر لیا جاتا تھا اور آج میں یہاں اس تبدیلی کو ’نجات‘ قرار دیتے ہوئے بگل بجانے، مذہبی دعائیں ادا کرنے اور بالآخر یہاں یہودی عبادت گاہ قائم کرنے کی بات کر رہا ہوں۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق 1967ء سے نافذ تاریخی انتظام کے تحت غیر مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں عبادت کرنے کی اجازت نہیں تاہم یہودیوں کو وہاں جانے کی اجازت ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انتہائی دائیں بازو کی جماعت ’یہودی طاقت‘ کے سربراہ بن گویر 2022ء میں وزارت سنبھالنے کے بعد سے کئی مرتبہ مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہو چکے ہیں جس پر فلسطینی اور دیگر حلقے شدید احتجاج کرتے رہے ہیں۔
بن گویر فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور مقبوضہ علاقوں سے فلسطینیوں کے انخلاء کی حمایت کرتے رہے ہیں جبکہ آبادکاروں کی ایک بڑھتی ہوئی تحریک مسجدِ اقصیٰ کے احاطے پر قبضہ کر کے وہاں یہودی عبادت گاہ تعمیر کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں حالیہ دراندازی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ہزاروں یہودی مغربی دیوار پر مذہبی عبادات میں شریک ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب یروشلم گورنریٹ نے بن گویر کے اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے خطرناک اشتعال انگیزی، مسجدِ اقصیٰ کی تاریخی اور قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی اور مسجد کے اسلامی تشخص کو تبدیل کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2003ء سے اسرائیلی پولیس یہودی آبادکاروں کو روزانہ مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت دیتی ہے تاہم جمعہ اور ہفتہ اس سے مستثنیٰ ہیں۔
فلسطینی نمازیوں کو بھی مسجدِ اقصیٰ میں داخلے کے لیے مختلف پابندیوں کا سامنا رہتا ہے، رواں سال عیدالفطر کے موقع پر اسرائیل نے مغربی کنارے سے صرف 10,000 فلسطینیوں کو رمضان کے پہلے جمعے کی نماز کے لیے مسجد اقصیٰ میں داخلے کی اجازت دی تھی۔