خواتین میں دل کے دورے کی علامات اکثر واضح نہیں ہوتیں جس کے باعث تشخیص اور علاج میں تاخیر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق غیر معمولی اور بلاوجہ تھکن دل کے مسائل کی ایک اہم ابتدائی علامت ہو سکتی ہے جو بعض اوقات دل کے دورے سے کئی ہفتے پہلے ظاہر ہوتی ہے۔
تحقیق کے مطابق خواتین میں دل کی بیماری کی تشخیص اکثر تاخیر سے ہوتی ہے حالانکہ یہ اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہے، خواتین میں دل کے دورے کی علامات مردوں سے مختلف ہو سکتی ہیں اور ان علامات کو اکثر ذہنی دباؤ، گھبراہٹ، معدے کی خرابی، عمر بڑھنے یا ہارمونز میں تبدیلی سے جوڑ دیا جاتا ہے۔
خواتین میں دل کے دورے کی ممکنہ ابتدائی علامات میں سانس پھولنا، سینے میں دباؤ یا بے آرامی، جبڑے، گردن، کندھے، کمر یا بازو میں درد، چکر آنا، ٹھنڈا پسینہ، متلی یا بد ہضمی جیسی کیفیت اور نیند میں خلل شامل ہے۔
ماہرین کے مطابق ہائی بلڈ پریشر، موٹاپا، ذیابیطس، کولیسٹرول کی زیادتی، تمباکو نوشی، جسمانی سرگرمی کی کمی، خاندانی تاریخ، سنِ یاس اور غیر متوازن خوراک دل کے دورے کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔
اگر کسی خاتون کو اچانک سینے میں تکلیف، شدید اور غیر معمولی تھکن، سانس لینے میں دشواری یا درد جبڑے، بازو، گردن یا کمر تک پھیلنے کی شکایت ہو اور یہ علامات چند منٹ سے زیادہ برقرار رہیں تو فوری طبی امداد حاصل کرنی چاہیے۔
دل کے دورے کے خطرے کو کم کرنے کے لیے متوازن اور دل کے لیے مفید غذا، باقاعدہ ورزش، تمباکو نوشی سے پرہیز، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو قابو میں رکھنا، ذیابیطس کا مناسب علاج، پوری نیند، ذہنی دباؤ میں کمی اور باقاعدہ طبی معائنہ ضروری ہے۔
طبی ماہرین کا خواتین کے لیے پیغام ہے کہ بلاوجہ یا غیر معمولی تھکن کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کریں، خاص طور پر اگر اس کے ساتھ سانس پھولنے یا سینے میں بے آرامی جیسی علامات بھی موجود ہوں۔
ہنگامی صورت میں فوراً کیا کریں؟
اگر سینے میں دباؤ یا درد، سانس پھولنے، ٹھنڈا پسینہ، متلی، چکر یا جبڑے، بازو، گردن، کمر یا کندھے میں اچانک درد جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوراً مقامی ہنگامی طبی امدادی نمبر پر کال کریں۔
علامات ختم ہونے کا انتظار نہ کریں اور مدد کے لیے پکاریں، خود گاڑی چلا کر اسپتال جانے کی کوشش نہ کریں، ایمبولینس کے ذریعے طبی امداد حاصل کرنا زیادہ محفوظ ہے کیونکہ راستے میں حالت بگڑنے کی صورت میں طبی عملہ فوری مدد فراہم کر سکتا ہے۔
دل کے دورے کا شبہ ہو تو اسپرین خود سے لے کر ہنگامی کال میں تاخیر نہ کریں، ہنگامی طبی عملہ صورتِ حال کے مطابق اسپرین لینے کی ہدایت کرتا ہے۔
اگر مریض بے ہوش ہو جائے اور معمول کے مطابق سانس نہ لے رہا ہو تو فوراً ہنگامی مدد طلب کریں۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔