برطانوی وزیراعظم کا سنگین جرائم میں ملوث قیدیوں کی قبل از وقت رہائی روکنے کا اعلان

فوٹو: برطانوی میڈیا 

برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے سنگین جرائم میں ملوث قیدیوں کی قبل از وقت رہائی روکنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیکڑوں قیدی جو موجودہ قوانین کے تحت رہا ہوسکتے تھے جیل میں رکھے جائیں گے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق  قیدیوں کی قبل از وقت رہائی کی پالیسی سخت کردی گئی، عوام کا تحفظ اور متاثرین کےحقوق ترجیح ہیں، جیلوں میں اضافی گنجائش کے لیے نئے سیلز بنانے کا کام شروع کیا جائے گا، جیلوں میں قید غیر ملکی تارکین وطن کو ملک بدر کیا جائے گا۔

وزیراعظم اینڈی برنہم نے جیلوں میں گنجائش کے بحران سے نمٹنے کے لیے قبل از وقت رہائی کے منصوبے میں تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی قتل، بشمول قتلِ خطا کے جرم میں سزا یافتہ افراد اس اسکیم کے اہل نہیں ہوں گے۔

اینڈی برنہم نے کہا کہ حکومت نہ صرف جنسی جرائم میں سزا یافتہ افراد کو جیل میں رکھے گی بلکہ قتلِ خطا اور خطرناک ڈرائیونگ کے نتیجے میں موت کے ذمہ دار افراد کو بھی قبل از وقت رہا نہیں کیا جائے گا۔

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ اگر قبل از وقت رہائی کی اسکیم میں تبدیلی کی گئی تو سیکڑوں مزید قیدی جیلوں میں رہیں گے اور ان کے لیے اضافی جگہ درکار ہوگی۔ انگلینڈ اور ویلز کی جیلوں میں گنجائش پہلے ہی 97 فیصد سے زیادہ بھر چکی ہے۔

برنہم نے کہا کہ اضافی گنجائش غیر ملکی قیدیوں کو ملک بدر کرکے اور بعض غیر معینہ مدت کی سزا پانے والے قیدیوں کو رہا کرکے پیدا کی جائے گی۔

حکومت نے مجرموں کی نگرانی کے لیے بھی سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے، جن میں الیکٹرانک ٹیگنگ اور متاثرین کے قریب جانے پر پابندی کے لیے مخصوص زونز قائم کرنا شامل ہے۔