ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ دنیا میں امن اور استحکام قائم کرنا ہے تو یہ ہمارے خطے ہی سے ابھرے گا۔
تہران میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پوری قوت اور عزم سے کھڑی قوم کو ہتھیار ڈالنے پر کوئی بھی مجبور نہیں کرسکتا۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ہم نے جنگ شروع نہیں کی اور نہ ہی ہم جنگ کے خواہاں ہیں لیکن کسی بھی جارح کے خلاف پوری قوت کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
اس موقع پر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ نئے علاقائی معاہدے اور انتظامات مسلم پڑوسی ممالک کا سیکیورٹی کے لیے غیرملکی طاقتوں کے بجائے اپنی صلاحیتوں پر انحصار کا آغاز ہوسکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ علاقائی سیکیورٹی مسلم ممالک کے درمیان تعاون اور خواہش کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ مسلم پڑوسیوں کو دشمنیوں کی بجائے تعاون اور بھائی چارہ اپنانا چاہیے۔
محمد باقر قالیباف نے ایران میں مختلف مسالک کے درمیان اتحاد کو قومی مضبوطی اور سیکیورٹی کا ستون قرار دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکا بھولے میڈیا کے ذریعے توانائی مارکیٹ میں ہیرا پھیری کرکے جنگ کو طوالت دینے کی کوشش کررہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل سےجڑے عناصر امید افزا جائزے پیش کر رہے ہیں تاہم صورتحال کا اصل بوجھ امریکی صارفین اٹھارہے ہیں۔