ایک زمانے میں بادام کو ایک معمولی غذا سمجھا جاتا تھا، لیکن اب یہ ایک سپر فوڈ کے طور پر اپنی جگہ بنا چکے ہیں۔ جبکہ یہ بھی امکان ہے کہ انہیں ڈیمنشیا کے خلاف جنگ میں بھی استعمال کیا جا سکے۔
دہی کے اوپر ڈالنے کے لیے بہترین یا صبح کے دلیے کے ساتھ کھانے کے لیے موزوں بادام اب اپنی معمولی حیثیت سے نکل کر ایک خاص اہمیت حاصل کر چکا ہے۔ اسکے صحت سے متعلق فوائد کو دیکھا جائے تو یہ ڈیمنشیا سے لے کر آنتوں کی صحت بہتر بنانے کے لیے کافی مفید ہے۔
ماہرین کے مطابق بادام مختلف شکلوں میں کھائے جا سکتے ہیں اور تقریباً ہر شکل میں ان کے صحت کے فوائد یکساں ہیں۔ اگرچہ 2026 میں بادام کو سپر فوڈ کے طور پر نئی مقبولیت حاصل ہوئی ہے، لیکن یہ کوئی نئی چیز نہیں ہیں۔
آثار قدیمہ سے ملنے والے شواہد بتاتے ہیں کہ بادام کی کاشت 3000 قبل مسیح تک مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں کی جا رہی تھی۔ وہاں انہیں ان کی طویل مدت تک محفوظ رہنے کی صلاحیت اور فوری توانائی فراہم کرنے کی وجہ سے بہت قیمتی سمجھا جاتا تھا۔ گویا یہ قدیم دور کا ایک انرجی اسنیک تھا۔
اگرچہ ہم سب بادام کو گری دار میوہ سمجھتے ہیں لیکن تکنیکی طور پر بادام بیج ہوتے ہیں جو بادام کے درخت کے پھل سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ بیرونی چھلکا اور سخت خول اتارنے کے بعد اندر موجود خوردنی بیج کو ثابت حالت میں کھایا اور بھونا جا سکتا ہے جبکہ اسے پیس کر مکھن بنایا جا سکتا ہے یا اس سے بادام کا دودھ اور آٹا تیار کیا جا سکتا ہے۔
قدیم تجارتی راستوں کے ذریعے بادام پہلے یورپ میں بڑے پیمانے پر مقبول ہوئے، جبکہ 18ویں صدی میں ہسپانوی مشنریوں نے بادام کے درخت کیلیفورنیا پہنچائے۔ بعد میں یہی قدم امریکی ریاست کیلیفورنیا کو دنیا کا بادام کا دارالحکومت کہلانے کا باعث بنا۔
بادام کو طویل عرصے تک زیادہ کیلوریز کی وجہ سے ڈائٹنگ کے حوالے سے منفی سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تاثر گمراہ کن ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جب بادام کو ثابت حالت میں کھایا جاتا ہے تو ان کی تقریباً 30 فیصد کیلوریز جسم جذب ہی نہیں کرتی، بلکہ یہ کیلوریز آنتوں میں موجود مفید بیکٹیریا کے لیے غذا کا کام کرتی ہیں۔
اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ بادام اومیگا 6 چکنائی، مونو انسیچوریٹڈ چکنائی، فائبر، وٹامن ای اور پولی فینولز سے بھرپور ہوتے ہیں۔ یہ غذائی اجزا خون کی شریانوں کی بہتر صحت، دل اور خون کی نالیوں سے متعلق بیماریوں کے کم خطرے اور دماغ کی بہتر صحت سے منسلک ہیں۔
یہیں سے بادام کی اصل طاقت سامنے آتی ہے، کیونکہ خون کی شریانوں کی صحت کو بہتر رکھنا ڈیمنشیا کے خطرے کو کم کرنے سے بھی منسلک ہے۔
زوئے (زیڈ او ای) کی چیف سائنٹسٹ اور کنگز کالج لندن کی ایسوسی ایٹ پروفیسر سارہ بیری کے مطابق بادام جیسے گری دار میوے غذائیت کا خزانہ ہیں۔ ان میں دل کے لیے مفید چکنائیاں، فائبر اور ایسے حیاتیاتی فعال مرکبات وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں جو خون کی شریانوں کے افعال اور آنتوں میں موجود مفید جرثوموں (گٹ مائیکرو بایوم) کو بہتر بناتے ہیں۔ یہ دونوں عوامل تیزی سے دماغی صحت اور ڈیمنشیا کے خطرے سے منسلک کیے جا رہے ہیں۔
ان میں پولیفینولز بھی وافر مقدار میں ہوتے ہیں، جو ایسے حیاتیاتی فعال مادے ہیں جو جسم میں سوزش کے خلاف کام کرنے والے راستوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
ان میں ایک خاص امینو ایسڈ، ارجینین، بھی پایا جاتا ہے۔ ارجینین نائٹرک آکسائیڈ بنانے میں مدد دیتا ہے، اور نائٹرک آکسائیڈ خون کی شریانوں کو صحت مند اور کشادہ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔