سوریا کمار نے ورلڈ کپ جیتنے کے باوجود ٹیم سے ڈراپ کیے جانے پر خاموشی توڑ دی

سوریا کمار یادو(فائل فوٹو)۔ 

بھارتی کرکٹر سوریا کمار یادیو نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتنے کے فوراً بعد ٹیم سے ڈراپ کیے جانے اور کپتانی ختم ہونے پر خاموشی توڑ دی ہے۔

بھارت کے ٹی20 ورلڈ کپ فاتح کپتان سوریا کمار یادیو نے بالآخر اس اہم معاملے پر لب کشائی کر دی ہے جس میں انہیں رواں سال ورلڈ کپ جیتنے کے فوری بعد قومی ٹیم سے ڈراپ کر دیا گیا تھا۔

اجیت اگرکار کی سربراہی میں سلیکشن کمیٹی نے سوریا کمار کو نظر انداز کرتے ہوئے آئرلینڈ اور انگلینڈ کے خلاف سیریز کے لیے شریاس آئر کو نیا کپتان منتخب کیا۔ 

سوریا کمار کو باہر کرنے کی سب سے بڑی وجہ گزشتہ دو سالوں میں ان کی اپنی بیٹنگ فارم تھی، جس کے دوران دائیں ہاتھ کے بلے باز کے لیے رنز بنانا مشکل ہو گیا تھا۔

سال 2025 میں سوریا کمار بھارتی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک بھی نصف سنچری بنانے میں ناکام رہے اور ٹی20 ورلڈ کپ کے دوران ان کے بیٹ سے صرف ایک نمایاں اننگز دیکھنے کو ملی جو ان کے ہوم گراؤنڈ وانکھیڈے اسٹیڈیم میں امریکہ کے خلاف تھی۔ تاہم، بحیثیت کپتان سوریا نے کوئی غلطی نہیں کی کیونکہ بھارت ان کی قیادت میں کوئی سیریز نہیں ہارا اور بالآخر اپنی سرزمیں پر ٹی20 ورلڈ کپ جیتنے میں کامیاب رہا۔

سوریا کمار نے اعتراف کیا کہ ٹیم سے ڈراپ ہونے پر ان کا ابتدائی ردعمل زیادہ سخت نہیں تھا کیونکہ انہوں نے خود کو سلیکٹرز کی جگہ رکھ کر یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ وہ کیوں آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور مستقبل کے لیے ٹیم بنانا چاہتے ہیں۔

سابق بھارتی بلے باز آکاش چوپڑا کے یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے سوریا کمار نے کہا کہ جب (ٹیم کی فہرست میں) میرا نام نہیں تھا تو میں مسکرا دیا۔ کیونکہ جب میں نے ایک دو سال ٹیم کے ساتھ کرکٹ کھیلی تو ایسی صورتحال میں رہا جہاں دباؤ ہو یا چیزیں میرے مطابق نہ جا رہی ہوں، میں نے ہمیشہ مسکرانے کی کوشش کی اور ریلیکس رہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب جو صورتحال سامنے آئی ہے، اس پر میں نے بھی نہیں سوچا تھا کہ ایسا ہوگا۔ 2026 میں مجھے لگا تھا کہ آگے چل کر میں مزید دو سال اس ٹیم کو لے کر چلوں گا۔

36 سالہ سوریا کمار نے مزید کہا اگر انہوں نے سوچا کہ آگے کے لیے یہ ایک بہتر فیصلہ ہے، تو انہوں نے وہ فیصلہ لے لیا۔ لیکن میں نے کوئی ردعمل نہیں دیا کیونکہ مجھے لگا کہ یہ ان کا فیصلہ تھا۔ اگر آگے چل کر یہ ٹیم کسی اور کی قیادت میں اچھا کر سکتی ہے، تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔