ٹائپ کاسٹنگ سے بچنے کیلئے کئی کردار ٹھکرائے، ہدایتکاروں سے کہا مجھے کاسٹ نہ کریں، تاپسی پنوں

بالی ووڈ اداکارہ تاپسی پنوں۔فوٹو: فائل

بالی ووڈ اداکارہ تاپسی پنوں نے فلم انڈسٹری میں اپنی شناخت قائم کرنے اور خود کو منوانے کے لیے متعدد ایسی فلمیں کیں جنکی کا مرکزی خیال خواتین کے گرد گھومتا ہے، جن میں پنک، ملک، تھپڑ اور آسی شامل ہیں۔ 

اب 39 سالہ اداکارہ اپنی آئندہ آنیوالی فلم گندھاری کی ریلیز کی تیاریوں میں مصروف ہیں جو نیٹ فلیکس پر ریلیز ہوگی۔ یہ ایکشن تھرلر فلم ہے، جس میں ایک ماں اپنی بیٹی کو بچانے کے لیے جدوجہد کرتی ہے۔

ایک حالیہ انٹرویو میں تاپسی پنوں نے اپنے کیریئر اور ایسی فلم انڈسٹری میں کام کرنے کے تجربے کے بارے میں بات کی جہاں کسی اداکار کو ایک مخصوص تاثر یا کردار تک محدود کر دینا بہت آسان ہوتا ہے۔ 

تاپسی نے بتایا کہ وہ خود کو کسی ایک مخصوص امیج میں قید نہیں کرنا چاہتیں، ہر کوئی اپنے کمفرٹ زون میں میں جا رہا ہے اور آزمودہ طریقے استعمال کر رہا ہے۔ مثال کے طور پر گلیمرس کرداروں کے لیے انڈسٹری کے پاس پانچ اداکاراؤں کا ایک مخصوص گروپ ہے، جبکہ سنجیدہ اور سماجی مسائل پر مبنی فلموں کے لیے مزید پانچ اداکاراؤں کا ایک الگ گروپ ہے۔ 

میں نے اسی وجہ سے فلمیں مسترد کرنا شروع کر دی ہیں اور فلم بنانے والوں سے کہتی ہوں کہ ناظرین آسانی سے فلم کے اختتام کا اندازہ لگا لیں گے۔ اس لیے میں ان سے کہتی ہوں کہ آپ مجھے اس فلم میں کاسٹ نہ کریں، یہ آپ کی فلم کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ میں نے کچھ فلموں سے خود کو جان بوجھ کر الگ کیا۔ 

تاپسی نے اپنے کیریئر کے ابتدائی دنوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک برف کے گولے کی طرح بڑھتا چلا گیا۔ میرے کیریئر کے آغاز سے ہی میرے پاس عام روایتی اور دقیانوسی کرداروں کے زیادہ مواقع نہیں تھے، حالانکہ ایسے کردار اداکاراؤں کے لیے مالی طور پر کافی فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔ 

انہوں نے مزید کہا ک مجھے اس طرح کے کردار نہیں ملے، اس لیے میں نے دوسرے قسم کے کردار کیے اور خوش قسمتی سے بعد میں وہ فلمیں اور کردار بھی مرکزی دھارے کا حصہ بن گئے۔

گندھاری ہدایت کار دیواشیش ماکھیجا کی فلم ہے جبکہ اس کی کہانی اور پروڈکشن کنیکا ڈھلون نے کی ہے۔ فلم کی کہانی ایک فرضی شہر جوئے پورا میں پیش آتی ہے، جہاں ایک نابینا ماں اپنی بیٹی کو بچانے کے لیے چھپے ہوئے حقائق، بڑھتے ہوئے خطرات اور غیر متوقع مددگاروں کا سامنا کرتی ہے۔ اس سفر میں امید کو مسلسل اندھیرے کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہونا پڑتا ہے۔