3 ستمبر کی ملک گیر ہڑتال لگتا ہے پہیہ جام میں تبدیل ہو جائیگی: حافظ نعیم الرحمٰن

حافظ نعیم الرحمٰن—فائل فوٹو  

امیرِ جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ 3 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال ہو گی، میں شہر شہر جا کر تاجروں کو جماعتِ اسلامی کی تحریک میں شامل ہونے کے لیے قائل کروں گا۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ آج فیصل آباد میں اور کل لاہور کے بعد پشاور میں بڑا جلسہ کریں گے، فیصل آباد جا کر صنعت کاروں اور تاجروں سے بھی ملاقات کروں گا، کل سے کوئٹہ میں بھی دھرنے کا آغاز کر رہے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ ہمارے مطالبات پورے ہونے تک دھرنا اور احتجاج جاری رہے گا، اسلام آباد کی طرف احتجاج کی کال دینے پر بھی مشاورت کر رہے ہیں، ابھی پہیہ جام ہڑتال کا نہیں کہہ رہے، مجھے لگتا ہے کہ یہ ہڑتال پہیہ جام میں تبدیل ہو جائے گی۔

امیرِ جماعتِ اسلامی نے کہا کہ ملک میں بہت زیادہ لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، اس کا جواب کون دے گا؟ دھرنے کے مطالبات میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ بھی شامل ہے، بجلی کے بلوں میں عائد فکس چارجز ختم کیے جائیں اور آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں کے ساتھ معاہدے فوری ختم کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت عوام پر پیٹرول بم کے ساتھ ساتھ بجلی بم بھی گرا رہی ہے، گیس کی لوڈشیڈنگ بھی عروج پر ہے، مہنگی گیس خریدنے کے باوجود عوام کو گیس نہیں ملتی۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ حکومت نے صرف بھتہ ٹیکس وصول کرنا ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں کرنا، حکومت نے کاروبار تباہ کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے، ہماری جیبوں پر ڈاکہ ڈال کر سرکاری افسر اپنی گاڑیاں چلاتے ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے عوام کے حق پر ڈاکہ ڈال کر فارم 47 پر حکومت بنائی ہے، ہمارے احتجاج کے باعث حکومت کی ڈیزل کے معاملے میں دھاندلی سامنے آئی ہے، لوکل ڈیزل پر ریفائنری کے اضافی چارجز وصول کیے جا رہے ہیں۔

امیرِ جماعتِ اسلامی نے پمز اسپتال میں 14 بچوں کے جل کر جاں بحق ہونے کے واقعے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس کا جواب کون دے گا؟ پمز اسپتال میں بھی حکومت کی انتظامیہ دیکھ لی۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے یہ بھی کہا کہ تینوں جماعتیں بیٹھ کر نورا کشتی کر رہی ہیں۔