مسلمانوں کا قاتل ’بوسنیا کا قصاب‘ جنگی مجرم راتکو ملادچ چل بسا

راتکو ملاڈچ—فائل فوٹو

سربیا کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق 1995ء کے سربرینیتسا قتلِ عام میں کردار ادا کرنے والا سابق بوسنیائی سرب فوجی سربراہ راتکو ملادچ چل بسا۔

’بوسنیا کے قصاب‘ کے نام سے مشہور راتکو ملادچ گزشتہ کئی ماہ سے متعدد فالج کے حملوں کا شکار تھا اور نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں دی ہیگ میں عمر قید کی سزا کاٹ رہا تھا۔

راتکو ملادچ نے 1995ء میں سربرینیتسا میں ہونے والےِ قتل عام کی نگرانی کی تھی، جسے دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ میں خونریزی کا بدترین واقعہ قرار دیا جاتا ہے۔

سربرینیتسا میں ملادچ کی کمان میں سرب فورسز نے اقوامِ متحدہ کے زیرِ تحفظ پناہ گاہ میں پناہ لینے والے تقریباً 8 ہزار بوسنیائی مسلمان مردوں اور لڑکوں کو قتل کر دیا تھا۔

اس وقت کی ویڈیوز میں راتکو ملادچ کو بچوں میں مٹھائیاں تقسیم کرتے دیکھا گیا، جبکہ بعد میں خواتین اور بچوں کو بسوں کے ذریعے وہاں سے منتقل کر دیا گیا اور مردوں کو جنگل کی جانب لے جاکر قتل کر دیا گیا۔

قتل کیے گئے افراد کی لاشیں اجتماعی قبروں میں دفن کی گئیں، جن میں سے کئی قبریں بعد میں دوبارہ کھودی گئیں اور لاشوں کو مختلف مقامات پر منتقل کیا گیا تاکہ قتلِ عام کے شواہد چھپائے جا سکیں۔

1992ء سے 1995ء تک جاری رہنے والی بوسنیا کی جنگ میں تقریباً 1 لاکھ افراد ہلاک اور 22 لاکھ افراد بے گھر ہوئے تھے۔

ملادچ کے خلاف نومبر 1995ء میں سابق یوگوسلاویہ کے لیے قائم بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل نے فردِ جرم عائد کی، تاہم وہ مزید 16 سال تک گرفتاری سے بچتا رہا۔

2000ء میں میلوسووچ کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد ملادچ پر دباؤ بڑھتا گیا اور بالآخر اسے مئی 2011ء میں گرفتار کر کے دی ہیگ منتقل کر دیا گیا۔

راتکو ملادچ نے مقدمے اور اپیل کے دوران نسل کشی اور جنگی جرائم میں ملوث ہونے سے انکار کیا، وہ عدالت کو مغربی طاقتوں کی پیداوار قرار دیتا رہا اور خود کو نیٹو اتحاد کا نشانہ بتاتا رہا۔

2017ء میں اسے نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی گئی، جسے 2021ء میں اپیل کے بعد بھی برقرار رکھا گیا۔

عدالت نے ملادچ کو مسلمانوں اور بوسنیائی باشندوں کو اہم علاقوں سے بے دخل کرنے اور نام نہاد ’گریٹر سربیا‘ کے قیام کے لیے وسیع پیمانے پر نسل  کشی کی مہم منظم کرنے کا بھی مجرم قرار دیا۔

اقوامِ متحدہ کے سابق انسانی حقوق کے سربراہ زید رعد الحسین نے ملادچ کو ’برائی کی بدترین مثال‘ قرار دیا تھا۔

دوسری جانب سربیا میں آج بھی بعض افراد ملادچ کو ہیرو سمجھتے ہیں اور اسے ایک ایسے فوجی کمانڈر کے طور پر دیکھتے ہیں جس نے اپنے لوگوں کے تحفظ کے لیے جدوجہد کی۔

زندگی کے آخری عرصے میں ملادچ کی دفاعی ٹیم نے خراب صحت کی بنیاد پر انسانی ہمدردی کے تحت رہائی کی درخواست بھی کی تھی، تاہم دی ہیگ کی عدالت نے یہ درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔