برطانیہ میں اس وقت تقریباً ستر ہزار پناہ کے متلاشی (Asylum Seekers) اب سرکاری ہوٹلوں کے بجائے گھروں، فلیٹس اور دیگر کمیونٹی رہائشی عمارتوں میں مقیم ہیں، جبکہ سرکاری ہوٹلوں میں رہنے والے افراد کی تعداد کم ہو کر صرف سولہ ہزار رہ گئی ہے۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر تقریباً ترانوے ہزار افراد سرکاری رہائش سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جن میں چار ہزار ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں، تاہم مختلف قانونی یا انتظامی وجوہات کی بنا پر وہ اب بھی حکومتی رہائش میں مقیم ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس پناہ گزینوں کو ہوٹلوں میں ٹھہرائے جانے پر انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے گروہوں نے شدید احتجاج کیا تھا اور ملک کے مختلف حصوں میں ایسے ہوٹلوں کے باہر مظاہرے بھی کیے گئے تھے۔ اس معاملے پر حکومت کو سیاسی دباؤ اور عوامی تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔
برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود کا کہنا ہے کہ حکومت کا ہدف اگلے عام انتخابات تک پناہ گزینوں کے لیے ہوٹلوں کے استعمال کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پالیسی کے تحت زیادہ سے زیادہ افراد کو کمیونٹی رہائش گاہوں میں منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ ہوٹلوں پر انحصار ختم ہو اور سرکاری اخراجات میں بھی نمایاں کمی لائی جا سکے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال برطانیہ میں مجموعی طور پر 85 ہزار 891 افراد نے پناہ کی درخواستیں دیں، جبکہ اس سے ایک سال قبل یہ تعداد ایک لاکھ 6 ہزار 100 تھی۔ اس طرح ایک سال کے دوران نئی پناہ کی درخواستوں میں تقریباً 21 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
حکام کے مطابق پناہ کی درخواست دینے والوں میں ایک قابل ذکر تعداد ایسے افراد کی بھی تھی جو قانونی طور پر سٹڈی ویزا، گریجویٹ (پوسٹ سٹڈی ورک) ویزا یا وزٹ ویزا پر برطانیہ آئے تھے، لیکن بعد ازاں انہوں نے پناہ کی درخواست دائر کر دی۔
ایسے افراد میں تقریباً 8 ہزار 300 پاکستانی شہری بھی شامل تھے، جو برطانیہ آنے کے بعد مختلف وجوہات کی بنا پر سیاسی یا انسانی بنیادوں پر تحفظ کے خواہاں بن گئے۔