کم نشاستہ والی غذائیں حالیہ برسوں میں تیزی سے مقبول ہوئیں اور ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ خون میں شوگر کی سطح اور وزن کو کم رکھنے کے ساتھ ساتھ ذیابیطس کے خطرے کو بھی کم کرتی ہیں۔
لیکن ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ غذا کچھ لوگوں میں کولیسٹرول کی سطح کو بہت زیادہ بڑھا سکتی ہے، جس سے امراض قلب، ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق برطانیہ کے تقریباً نصف بالغ افراد کا کولیسٹرول زیادہ ہے۔ کولیسٹرول کی وجہ سے شریانوں میں خطرناک چربی دار تہہ جمع ہو سکتی ہے، جو ہر سال تقریباً پانچ میں سے ایک موت کا سبب بنتی ہے۔ کم کاربوہائیڈریٹ والی غذا جیسے آلو اور روٹی میں تقریباً 75 فیصد چکنائی، 20 فیصد پروٹین اور 10 فیصد کاربوہائیڈریٹس شامل ہوتے ہیں۔
یہ غذائی پلان پہلے اچھے کولیسٹرول کی سطح بڑھانے کا باعث بھی قرار دیا جاتا رہا ہے۔ ایچ ڈی ایل خون کی شریانوں سے چربی کے ذخائر کو دور کرنے میں مدد کرتا ہے۔
تاہم نئی تحقیق کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ کم نشاستہ دار غذائیں زیادہ خطرے والے افراد میں برے کولیسٹرول کی سطح بڑھا سکتی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ اس میں زیادہ چکنائی والی غذائیں شامل ہو سکتی ہیں۔
اس تحقیقی ٹیم کی مصنفہ الیکسا بارڈ نے کہا کہ اگرچہ کچھ لوگوں کو کم کاربوہائیڈریٹ والی غذا سے فائدہ ہو سکتا ہے، لیکن یہ سب کے لیے یکساں طور پر مفید نہیں۔ انھوں نے کہا غذائی مشورے بعض اوقات ایسے پیش کیے جاتے ہیں جیسے وہ ہر شخص کے لیے یکساں ہوں۔ جن افراد میں جینیاتی طور پر کولیسٹرول کا خطرہ سب سے زیادہ تھا، ان میں سیر شدہ چکنائی زیادہ استعمال کرنے کی صورت میں برے کولیسٹرول میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔
تحقیق کرنے والی ٹیم کو امید ہے کہ مستقبل میں ان کا طریقہ ڈاکٹروں اور ماہرین غذایت کو ایسے افراد کی شناخت میں مدد دے گا جن میں مخصوص غذاؤں کے استعمال سے کولیسٹرول میں نقصان دہ تبدیلیاں آنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ سیر شدہ چکنائی بہت سی غذاؤں میں پائی جاتی ہیں، لیکن ان کا بڑا حصہ جانوروں سے حاصل ہونے والے گوشت اور دودھ سے بنی مصنوعات میں موجود ہوتا ہے۔ پام آئل بھی سیر شدہ چکنائی کا ایک ذریعہ ہے۔
اس کے برعکس، غیر سیر شدہ چکنائی زیادہ تر پودوں اور مچھلی میں پائی جاتی ہیں۔ برطانیہ میں موجودہ رہنما اصولوں کے مطابق سیر شدہ چکنائی روزانہ استعمال ہونے والی کیلوریز کے تقریباً 10 فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ مردوں کے لیے اس کا مطلب روزانہ زیادہ سے زیادہ تقریباً 30 گرام سیر شدہ چکنائی ہے، جبکہ خواتین کو روزانہ 20 گرام سے زیادہ سیر شدہ چکنائی استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
برطانوی محکمہ صحت (این ایچ ایس) کی ہدایات کے مطابق دل کی بیماری کے خطرے کو کم کرنے کے لیے سیر شدہ چکنائی کم کرنی چاہیے اور جہاں ممکن ہو اسے غیر سیر شدہ چکنائی، بشمول اومیگا-3 چکنائی، سے تبدیل کرنا چاہیے۔ کم کاربوہائیڈریٹ والی غذا اختیار کرنے والے افراد کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ مکھن، چربی والے گوشت اور پراسیس شدہ گوشت کے بجائے گری دار میوے، بیج اور زیتون کے تیل جیسی غذاؤں کا انتخاب کیا جائے۔