پرویز الہٰی کارڈیالوجی انسٹیٹوٹ کے موجودہ وسائل مریضوں کی بڑھتی تعداد کیلبے ناکافی ہے، انتظامیہ

بہاولپور کے پرویز الہٰی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو فنکشنل ہوئے 8 سال گزر چکے ہیں اور مریضوں کی تعداد تو سیکڑوں سے لاکھوں میں پہنچ چکی ہے مگر کارڈیک سینٹر میں نہ بیڈز کی تعداد میں اضافہ ہوا اور نہ انجیوگرافی اور ایکو کارڈیوگرافی مشینوں کی تعداد بڑھ سکی۔

واضح رہے کہ بہاولپور کے پرویز الہٰی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں 2018 میں صرف 150 بیڈز کے ساتھ کارڈیالوجی سروسز کا آغاز کیا گیا۔ تیزی سے بڑھتے ہوئے دل کے امراض میں مبتلا مقامی مریضوں کے ساتھ جنوبی پنجاب اور ملک کے دیگر علاقوں سے بھی دل کے مریض علاج کے لیے گزشتہ کئی سال سے بہاولپور کارڈیک سنٹر کا رخ کر رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق رواں سال یکم جنوری سے 31 جولائی تک کارڈیک انسٹیٹیوٹ کی او پی ڈی میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ مریض رپورٹ ہو چکے ہیں، جبکہ 12 ہزار مریضوں کو داخل کیا گیا۔ 

اسی دوران تقریباً 8 ہزار اینجیوگرافی پروسیجرز بھی کیے جا چکے ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق او پی ڈی سمیت تمام مریضوں کو ادویات اور طبی سہولیات مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔ 

اسپتال کے ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ ڈاکٹر شہادت علی کے مطابق مریضوں کی بڑھتی تعداد کے مقابلے میں ادارے کے پاس اس وقت صرف دو اینجیوگرافی مشینیں، چار ایکو کارڈیوگرافی مشینیں اور 150 بیڈز موجود ہیں۔

انتظامیہ کے مطابق موجودہ وسائل بڑھتے ہوئے مریضوں کا بوجھ برداشت کرنے کے لیے ناکافی ہیں، جس کے باعث مریضوں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرز کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ 

مریضوں اوران کے تیمارداوں کا کہناہے کہ کارڈیک سینٹر بہاولپور کی کارکردگی اور مریضوں کی بڑھتی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت جدید سہولیات اور بہتر طبی خدمات کی فراہمی کے لیے فوری اقدامات کرے تاکہ بروقت اور بہتر علاج کی سہولت میسر آ سکے۔