اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں آتش زدگی کے افسوس ناک واقعے پر شوبز شخصیات نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ذمے داروں کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر دیا۔
پمز میں آتشزدگی کے نتیجے میں بچوں کی اموات نے ملک بھر میں تشویش اور غم کی لہر دوڑا دی، جبکہ متعدد فنکاروں نے سوشل میڈیا پر واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے غفلت کے ذمے داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔
اداکار محمد احمد نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ بچوں سے متعلق افسوس ناک واقعات کی خبریں مسلسل سامنے آتی رہتی ہیں اور خدشہ ہے کہ ان 15 بچوں کو بھی پہلے ہونے والے واقعات کی طرح بھلا دیا جائے گا۔
محمد احمد نے سوال اٹھایا کہ ماضی کے واقعات کے ذمے داروں کو سزا کیوں نہیں دی گئی اور ان کے خلاف مؤثر کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟
انہوں نے پمز آتشزدگی میں اپنے بچوں سے محروم ہونے والی ماؤں کے غم پر بھی افسوس کا اظہار کیا ہے۔
اداکارہ عزیقہ ڈینیل نے مبینہ طور پر ’نااہل نظام‘ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک میں انسانی جان کی قدر صرف ایک یا دو ہفتے کی مذمت تک محدود رہ جاتی ہے، اس کے بعد سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے اور اگلے سانحے یا بریکنگ نیوز کا انتظار شروع ہو جاتا ہے۔
اداکارہ زارا نور عباس نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ مسلسل پیش آنے والے واقعات لوگوں کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے پر مجبور کر رہے ہیں، کیونکہ متعدد واقعات کے باوجود کسی سے سوال یا جواب طلبی نہیں کی جاتی۔
زنیرہ انعام خان نے سوشل میڈیا پوسٹ میں واقعے کو محض حادثہ ماننے کے بجائے ’مجرمانہ غفلت اور بدانتظامی‘ کا نتیجہ قرار دیا اور ذمے داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اداکارہ سبینہ فاروق نے بھی سوشل میڈیا پر پمز آتشزدگی کے بعد متاثرہ بچوں کی موجودہ صورتِ حال کے بارے میں سوال اٹھایا ہے۔
اداکار احسن خان اور نادیہ افغان نے بھی ایک ایسی ویڈیو دوبارہ شیئر کی ہے جس میں ایک ماں اپنے بچے کی باقیات حوالے کرنے کی اپیل کرتی دکھائی دے رہی ہے۔