قومی ادارہ برائے صحتِ اطفال (این آئی سی ایچ) میں فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات کا انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق بچوں کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال میں ایمرجنسی ایگزٹس بھی بند ہیں، جبکہ متعدد فائر ایکسٹنگیوشرز خراب حالت میں ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپتال میں فائر ایکسٹنگیوشرز کی طویل عرصے سے ٹیسٹنگ اور مانیٹرنگ نہیں کی گئی، جبکہ مؤثر فائر سیفٹی الارم سسٹم بھی موجود نہیں۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ 10 سال کے دوران این آئی سی ایچ کے ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر عملے کو فائر سیفٹی ڈرل یا تربیت بھی نہیں دی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ این آئی سی ایچ میں گزشتہ 6 سال کے دوران آگ لگنے کے 2 بڑے واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔
دوسری جانب ڈائریکٹر این آئی سی ایچ ڈاکٹر ناصر سڈل نے ایمرجنسی اخراج بند ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسپتال کے ایمرجنسی اخراج کو سیکیورٹی کے لیے بند کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر ناصر سڈل کے مطابق ماضی میں اسپتال میں چوری کی متعدد وارداتیں ہو چکی ہیں، تاہم عملے کے پاس ایمرجنسی اخراج کے دروازوں کی چابیاں موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر اسپتال میں کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آتا ہے تو اس کا ذمے دار عملہ ہو گا۔
ڈائریکٹر این آئی سی ایچ نے کہا ہے کہ اسپتال میں فائر ایکسٹنگیوشرز موجود ہیں، تاہم عملے کو فائر فائٹنگ کی تربیت نہیں دی گئی، جس کے حوالے سے میٹنگ کی جا رہی ہے۔