امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ٹرانس جینڈر خاتون اور طویل عرصے تک سی آئی اے میں خدمات انجام دینے والی افسر جولیا کرلی کو ان کی صنفی شناخت منظر عام پر آنے کے بعد وائٹ ہاؤس سے برطرف کردیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جولیا کرلی 20 سال تک سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) سے وابستہ رہیں اور 2013ء میں ایجنسی میں ملازمت کے دوران اپنی جنس تبدیل کرنے والی پہلی سی آئی اے افسر بنی تھیں۔
جولیا کرلی نے بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے 2024ء کے صدارتی انتخاب میں کامیابی کے بعد مجھے وائٹ ہاؤس میں کام جاری رکھنے کے لیے کہا گیا، حالانکہ ٹرمپ کی انتخابی مہم میں ٹرانس جینڈر افراد کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا گیا تھا۔
ان کے مطابق ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے بعد بھی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام میرے ساتھ اچھا سلوک کرتے رہے۔
جولیا کرلی نے بتایا کہ ایک دن اہل خانہ کے ساتھ باربی کیو میں مصروف تھی کہ میرے نئے باس کی کال آئی اور مجھے بتایا گیا کہ مجھے برطرف کردیا گیا ہے، تاہم برطرفی کی وجہ نہیں بتائی گئی۔
رپورٹ کے مطابق اسی روز دائیں بازو کی معروف سوشل میڈیا شخصیت لورا لومر نے ایکس پر جولیا کرلی کی ٹرانس جینڈر شناخت ظاہر کرتے ہوئے ان کی وائٹ ہاؤس میں موجودگی پر سوال اٹھایا تھا۔
جولیا کرلی کا کہنا ہے کہ میری صنفی شناخت اس وقت تک کبھی کام میں مسئلہ نہیں بنی، تاہم جب یہ معاملہ عوامی اور سیاسی مسئلہ بن گیا تو مجھے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ 2017ء میں ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت کے دوران بھی میں نیشنل سیکیورٹی کونسل میں خدمات انجام دے چکی ہوں اور اس دوران سابق نائب صدر مائیک پینس کو روزانہ انٹیلی جنس بریفنگز دیتی تھی۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے جولیا کرلی کی برطرفی سے متعلق سوال پر کہا کہ جو شخص صدر کے خلاف تنقید کرتے ہوئے اپنے بارے میں 3 ہزار الفاظ کا مضمون لکھے، وہ سرکاری ملازمت کے لیے موزوں نہیں۔