پمز اسپتال واقعے پر سب سے پہلے خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں، وزیر صحت مصطفیٰ کمال

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ پمز اسپتال واقعے پر سب سے پہلے خود کو احتساب کے لیے پیش کرتا ہوں، کوتاہی کے مرتکب افراد کو نہیں چھوڑیں گے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جس کی بھی کوتاہی ہوئی ہے اسے کسی صورت نہیں چھوڑیں گے، میں نے خود کو احتساب کیلئے وزیراعظم کے آگے پیش کیا ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے کچھ موضوعات پر بات کرنے سے روکا ہے، اب میں جا کر وزیراعظم شہباز شریف سے اس موضوع پر تفصیلی بات کروں گا۔

وزیر صحت نے کہا کہ کوئی بھی چیز چھپے گی نہیں، ثبوت سامنے آئیں گے، اس پورے واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں، اگر کسی نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی تو اس کو چھوڑیں گے نہیں، اس اندوہناک سانحے پر تعزیت کرتا ہوں، ایئرپورٹ سےسیدھا اسپتال پہنچا ہوں، یہاں سے وزیراعظم کے پاس جاؤں گا، انکوائری رپورٹ دو تین روز میں آجائے گی۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ آگ بہت زیادہ تھی، بجھانے کےلیے 26 سلنڈرز استعمال کیے گئے، دوسرے دروازے پر گارڈ کی 24 گھنٹے ڈیوٹی ہے، اسی دروازے سے نومولود چوری ہوتے تھے، انخلا کے راستے میں گارڈ کی ڈیوٹی ہے وہ 24 گھنٹے وہاں ہوتے ہیں، بچوں کے چوری ہونے کی وجہ سے ایک دروازے پر گارڈ کی تعیناتی تھی۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے استعفیٰ دینے سے متعلق سوال کیا گیا جس پر انہوں نے جواب دیا کہ وزیراعظم میرے باس ہیں، وہ جو بھی فیصلہ کریں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پمز اسپتال میں بچوں کی ہلاکت دلخراش واقعہ ہے، نرس کے مطابق 6 بج کر 38 منٹ پر اے سی میں اسپارک ہوا تھا۔ ویڈیو میں 6 بج کر 39 منٹ پر لوگوں کو مدد بلانے کے لیے دوڑتا دیکھا جاسکتا ہے۔ 6 بج کر 40 منٹ پر آگ پھیل چکی تھی، وارڈ میں بچوں کو آکسیجن لگی تھی، اسی آکسیجن نے شعلہ پکڑ لیا۔