ٹرمپ انتظامیہ نے دنیا بھر میں امریکی ویزا انٹرویوز روک دیے

—فائل فوٹو 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے دنیا بھر میں امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں میں ویزا انٹرویوز عارضی طور پر روکنے یا دوبارہ مقرر کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ 

امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق یہ اقدام قونصلر افسران کی عالمی تربیتی مہم کے لیے کیا گیا ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ ویزا سروسز کے شیڈول میں تبدیلی تربیتی پروگرام کے مطابق کی جائے گی تاہم یہ عمل کب تک جاری رہے گا، اس کی کوئی حتمی مدت نہیں بتائی گئی، تربیت کا مقصد ایسے درخواست گزاروں کی بہتر جانچ کرنا ہے جن کے بارے میں خدشہ ہو کہ وہ مستقبل میں امریکی سرکاری مراعات پر انحصار کر سکتے ہیں جبکہ تمام ویزا درخواستوں کا جامع اور یکساں جائزہ بھی یقینی بنایا جائے گا۔

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق متعدد تارکینِ وطن ویزا درخواست گزاروں کو امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں سے ای میلز موصول ہوئی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ ان کے طے شدہ انٹرویوز دوبارہ مقرر کیے جا رہے ہیں اور نئی تاریخ سے متعلق بعد میں آگاہ کیا جائے گا۔

ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسی

ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے دوسرے دورِ صدارت میں غیر قانونی اور قانونی دونوں طرح کی امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات کیے ہیں۔ 

ان اقدامات میں ویزے اور گرین کارڈ منسوخ کرنا اور مختلف وجوہات کی بنیاد پر درخواستیں مسترد کرنا بھی شامل ہے جن میں سیاسی خیالات اور فلسطین کے حق میں احتجاج بھی شامل ہیں۔

انتظامیہ نے رواں ہفتے ایچ-1 بی ویزا پروگرام میں بڑی تبدیلی کی ایک نئی تجویز پر بھی جائزہ شروع کیا ہے۔ 

یہ پروگرام لاکھوں پیشہ ور افراد سمیت غیر ملکی ماہرین کے لیے امریکا میں ملازمت کا اہم راستہ ہے، تجویز کو معاشی طور پر اہم قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس کے سالانہ اقتصادی اثرات کم از کم 100 ملین ڈالر ہونے یا معیشت، ملازمتوں، پیداوار، مسابقت یا کسی بڑے اقتصادی شعبے پر نمایاں اثر پڑنے کا امکان ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ تقریباً 200,000 ایسے غیر ملکیوں کے ویزے بھی منسوخ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے جو سیاحت یا کاروبار کے لیے امریکا گئے تھے لیکن بعد میں قیام بڑھانے کے لیے پناہ کی درخواست دے چکے ہیں۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امیگریشن کے خلاف یہ کارروائی ملکی سلامتی بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے تاہم اس پالیسی کو قانونی رکاوٹوں کا بھی سامنا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ایک امریکی جج نے 75 ممالک کے شہریوں کو تارکین وطن ویزوں کے اجراء پر پابندی کی انتظامی پالیسی مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو کے پاس ایسا حکم جاری کرنے کا قانونی اختیار نہیں تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسی کو امتیازی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے آزادیٔ اظہار اور قانونی طریقۂ کار کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ 

تنظیموں کے مطابق اس پالیسی کے باعث امریکا میں نسلی اقلیتوں کے لیے غیر محفوظ ماحول پیدا ہوا ہے اور انہیں نسلی بنیادوں پر جانچ پڑتال کا خدشہ ہے۔

یاد رہے کہ ٹرمپ نے 2024ء کی انتخابی مہم میں غیر قانونی امیگریشن روکنے کا وعدہ کیا تھا تاہم ان کی انتظامیہ نے قانونی امیگریشن بھی مشکل بنا دی ہے جس میں بعض ورک ویزا درخواست گزاروں پر نئی اور بھاری فیس عائد کرنا شامل ہے۔