امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کی جانب سے اعلیٰ فوجی افسران کو برطرف یا عہدوں سے ہٹائے جانے کے بعد امریکی بری فوج شدید بحران کا شکار ہو گئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی بری فوج اپریل سے مستقل چیف آف اسٹاف سے محروم ہے جب ہیگستھ نے جنرل رینڈی جارج کو عہدے سے ہٹا دیا تھا۔
امریکی حکام کے مطابق تاحال کوئی واضح اشارہ نہیں ملا کہ وزیرِ دفاع نئے چیف آف اسٹاف کی تقرری کب کریں گے۔
رپورٹس کے مطابق ہیگستھ نے جنرل رینڈی جارج کے ممکنہ جانشین سمجھے جانے والے کم از کم 3 اعلیٰ افسران کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا تھا جبکہ مجموعی طور پر تقریباً 6 اعلیٰ فوجی افسران کو برطرف کیا گیا یا عہدے چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔
امریکی فوج کو ان تبدیلیوں اور قیادت کے بحران کا سامنا ایسے وقت میں درپیش ہے جب وہ عراق اور افغانستان کی جنگوں کے بعد ایران میں مصروف ترین فوجی کارروائیوں میں مصروف ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی فوج کو میدان جنگ میں ڈرونز کے بڑھتے ہوئے استعمال کا بھی سامنا ہے، سستے ڈرونز بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہے ہیں جبکہ ایران اور روس نے جدید میزائل اور ڈرونز بھی تیار کیے ہیں۔
امریکی بری فوج کے سیکریٹری ڈینیئل پی ڈرسکول کے بھی آنے والے مہینوں میں ٹرمپ انتظامیہ سے الگ ہونے کا امکان ہے، وہ ماضی میں پیٹ ہیگستھ کی جگہ ممکنہ وزیرِ دفاع کے امیدوار سمجھے جاتے تھے۔
جنوری 2025ء میں پیٹ ہیگستھ کے وزیرِ دفاع بننے کے وقت امریکی بری فوج میں 10 فعال 4 اسٹار جنرل موجود تھے لیکن اب یہ تعداد کم ہوکر صرف 5 رہ گئی ہے جو کئی دہائیوں کی کم ترین سطح ہے، بعض اعلیٰ عہدے ختم کیے جاچکے ہیں جبکہ کچھ اہم ذمہ داریاں دوسری فوجی سروسز کے افسران کو دی جا رہی ہیں۔
امریکی بری فوج کے تربیت اور تبدیلی کے اہم کمانڈ کا عہدہ بھی خالی ہے، یہ کمانڈ زمینی فوجیوں کی تربیت اور انہیں جنگی سازوسامان فراہم کرنے کی ذمہ دار ہے جن میں پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام چلانے والے اہلکار بھی شامل ہیں۔
پیٹ ہیگستھ نے گزشتہ سال جنرل ڈیوڈ ایم ہڈن کو اس کمانڈ کا سربراہ مقرر کیا تھا تاہم 8 ماہ بعد انہیں بغیر وجہ بتائے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا، یہ عہدہ ایسے وقت میں خالی ہے جب ایرانی میزائل حملوں کے خلاف پیٹریاٹ نظام بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ سال اکتوبر میں ہیگستھ نے بری فوج کے نائب چیف آف اسٹاف جنرل جیمز منگس کو بھی متوقع مدت سے تقریباً 1 سال پہلے عہدے سے ہٹا دیا تھا، بعد ازاں وائٹ ہاؤس اور ہیگستھ نے جنرل کرسٹوفر لینیو کو نائب چیف آف اسٹاف نامزد کیا جو اس سے قبل ہیگستھ کے سینئر فوجی معاون رہ چکے تھے۔
ہیگستھ نے ابتدا میں جنرل رینڈی جارج پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے لینیو کی نامزدگی روکنے والے قانون سازوں کے ساتھ مل کر کام کیا تاہم کانگریسی حکام نے اس الزام کو غلط قرار دیا، لینیو سے بالآخر فروری میں نائب چیف آف اسٹاف کا حلف لیا گیا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کے 2 ماہ سے بھی کم عرصے بعد ہیگستھ نے ایک تقریباً 15 سیکنڈ کی فون کال میں جنرل رینڈی جارج کو عہدے سے برطرف کر دیا، اب جنرل لینیو بیک وقت نائب چیف آف اسٹاف اور قائم مقام چیف آف اسٹاف کے فرائض انجام دے رہے ہیں، دونوں عہدے 4 اسٹار سطح کے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ری پبلکن سینیٹر جونی ارنسٹ نے خبردار کیا کہ تربیت میں ہر شارٹ کٹ اور نظم و ضبط میں ہر کوتاہی کی قیمت فوجیوں کو اپنی جان سے چکانا پڑ سکتی ہے۔
نیویارک سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکن کانگریس پیٹ ریان نے بھی کہا ہے کہ جنگ کے دوران تجربہ کار اور ثابت شدہ فوجی قیادت کو کمزور کرنے سے امریکی فوجی کم محفوظ ہوجاتے ہیں اور جنگ جیتنے کے امکانات بھی متاثر ہوتے ہیں۔