بالی ووڈ سپر اسٹار امیتابھ بچن کی 1983 کی فلم قلی میں ان کے بچپن کا کردار ادا کرنے والے روی ولیچا نے انکشاف کیا کہ بچپن میں جنسی زیادتی کا شکار ہوا، جس کے بارے میں وہ کسی کو کچھ بتا بھی نہیں سکے تھے۔
سابق چائلڈ اداکار نے فلم انڈسٹری میں اپنے ساتھ ہونے والے جنسی استحصال کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ چھ ماہ تک تھراپی لینے کے بعد اُن کا ٹراما دور ہوا۔
روی ویلیچا نے بطور چائلڈ ایکٹر تقریباً 300 فلموں میں کام کیا، جو مختلف زبانوں میں بنائی گئی تھیں۔ وہ اکثر امیتابھ بچن کے بچپن کا کردار ادا کیا کرتے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ یہ واقعات اس وقت شروع ہوئے جب وہ تقریباً آٹھ سال کے تھے اور ان کے ساتھ ایسے واقعات تین مرتبہ پیش آئے۔
بھارتی میڈیا سے گفتگو میں انکا کہنا تھا کہ ان کے لیے کسی کو یہ بتانا انتہائی مشکل تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ خوف اور خاموشی کئی برسوں تک ان کے ساتھ رہی۔
روی ولیچا نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ایسا ایک واقعہ ڈبنگ اسٹوڈیو میں پیش آیا۔ انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے ایک عمر رسیدہ شخص نے انکے ساتھ بے ہودہ حرکت کی۔ ایک نوجوان سیکریٹری کی حرکت سے بھی بہت اذیت ہوئی، وہ اس وقت گیارہ بارہ برس کے تھے۔
روی ویلیچا نے کہا جو کچھ ہو رہا تھا، اس کے بارے میں بات کرنے سے خوفزدہ تھے، خاص طور پر اس لیے کہ انہیں کام کے سلسلے میں اسی شخص کے ساتھ مسلسل سفر کرنا پڑتا تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ انہیں خوف تھا کہ شاید ان کے والدین ان کی بات پر یقین نہ کریں۔ وہ اس تجربے کا بوجھ کئی برسوں تک اپنے ساتھ لیے پھرتے رہے۔ اس واقعے پر ان کے دل میں پیدا ہونے والا غصہ بالآخر ان کی ذاتی زندگی کو بھی متاثر کرنے لگا۔ اس تجربے کو برسوں تک اپنے ساتھ لیے پھرتا رہا۔
روی ولیچا 1970 اور 1980 کی دہائی میں ہندی فلموں میں ایک جانے پہچانے چائلڈ اداکار تھے۔ انہوں نے قلی، امر اکبر انتھونی، مسٹر نٹور لال، فقیرا، تمہارے بنا، خوددار، ناستک، پریچے، یادوں کی بارات، قرض، سیتا اور گیتا اور دیش پریمی سمیت کئی فلموں میں کام کیا۔
بچپن میں بطور اداکار وسیع پیمانے پر کام کرنے کے باوجود روی والیچا نے بعد میں اداکاری سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی۔