ٹرمپ انتظامیہ نے ہنر مند غیر ملکی افراد کو جاری کیے جانے والے ایچ۔1۔بی ویزوں پر 1 لاکھ 3 ہزار 265 ڈالرز فیس عائد کرنے کی تجویز دے دی۔
ٹرمپ انتظامیہ اس سے قبل نئے ایچ۔1۔بی ویزوں پر 1 لاکھ ڈالرز فیس عائد کر چکی تھی تاہم جون میں وفاقی جج نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔
امریکی حکومت کے مطابق مجوزہ نئی فیس سے سالانہ تقریباً 8 ارب 80 کروڑ ڈالرز حاصل ہونے کا امکان ہے تاہم یہ فیس ان آجروں پر لاگو نہیں ہو گی جو ایچ۔1۔بی ویزوں کی سالانہ مقررہ حد سے مستثنیٰ ہیں جس سے غیر منافع بخش جامعات اور اسپتالوں کو کچھ رعایت ملے گی۔
یہ ادارے سال بھر ایچ۔1۔بی ویزوں کے لیے درخواستیں دے سکتے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے ایچ۔1۔بی ویزا پروگرام میں بڑی تبدیلیوں کا مطالبہ کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ موجودہ پروگرام بعض کمپنیوں کو امریکی شہریوں کو نظر انداز کر کے کم اجرت پر غیر ملکی کارکن بھرتی کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔