بھارتی حکمراں جماعت بی جے پی کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی ایک ویڈیو پر پاکستانی گانا استعمال کرنے کے باعث تنقید کی جا رہی ہے۔
ممبئی پونے مسنگ لنک انفرااسٹرکچر منصوبے کی ویڈیو کے پسِ منظر میں پاکستانی بینڈ بیان کا گانا سفر چلایا گیا ہے۔
لاہور سے تعلق رکھنے والے پاکستانی بینڈ بیان کا گانا سفر 2024ء میں ریلیز ہونے والے اسی نام کے البم کا حصہ ہے۔
بی جے پی کی جانب سے پاکستانی گانے کے استعمال پر سوشل میڈیا صارفین نے سوال اٹھایا ہے کہ ایک جانب بھارت میں پاکستانی فنکاروں اور پاکستان سے متعلق تفریحی مواد پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جبکہ دوسری جانب سیاسی جماعت اپنی سوشل میڈیا ویڈیو میں پاکستانی گانا استعمال کر رہی ہے۔
ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ قوم پرستی کے نام پر پاکستانی فنکاروں اور موسیقی پر پابندی لگانا اور پھر ضرورت کے مطابق پاکستانی گانا استعمال کرنا، یہ منافقت موسیقی سے بھی زیادہ بلند ہے۔
ایک اور صارف نے سوال کیا آپ پاکستانی گانا کیوں استعمال کر رہے ہیں؟
ایک صارف نے بی جے پی پر پاکستان مخالف بیانیہ فروغ دینے اور پھر سوشل میڈیا پوسٹس میں پاکستانی گانے استعمال کرنے پر تنقید کی ہے، جبکہ ایک اور نے لکھا ہے کہ پاکستانی گانا استعمال کرنے کے بعد پاکستان کے خلاف باتیں کرنا منافقت ہے۔
یہ ردِعمل بھارت میں پاکستانی فنکاروں اور تفریحی مواد پر جاری پابندیوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
مئی 2025ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان فوجی جھڑپوں کے بعد بھارتی حکام نے پاکستانی فلموں، موسیقی، ویب سیریز اور دیگر ڈیجیٹل مواد کے خلاف کارروائی کی تھی۔
بھارتی حکومت نے او ٹی ٹی پلیٹ فارمز اور ڈیجیٹل اسٹریمنگ سروسز کو پاکستان سے آنے والے مواد، جن میں فلمیں، موسیقی، پوڈکاسٹس اور ویب سیریز شامل ہیں، ہٹانے کی ہدایت بھی کی تھی۔