غزہ پر نئی دستاویزی فلم وینس فیسٹیول میں پیش کی جائے گی

—تصویر بشکریہ عرب میڈیا

غزہ میں فلسطینی شہریوں کی شہادت کے پسِ پردہ مبینہ نظام پر بنائی گئی نئی دستاویزی فلم نازا (NAZA) آئندہ ماہ وینس فلم فیسٹیول میں پیش کی جائے گی۔

فلم فیسٹیول کے منتظمین کے مطابق نازا آسکر ایوارڈ یافتہ اسرائیلی فلسطینی دستاویزی فلم نو ادر لینڈ کے ہدایت کاروں یووال ابراہم اور ریچل سور کی نئی فلم ہے، جو گولڈن لائن ایوارڈ کے مقابلے میں شامل 21 فلموں میں واحد دستاویزی فلم ہے۔

فیسٹیول کی ویب سائٹ پر جاری خلاصے کے مطابق فلم غزہ میں فلسطینی شہریوں کی شہادت کے لیے اسرائیل کے مبینہ منصوبہ بندی پر مبنی نظام کا جائزہ لیتی ہے۔

فلم 10 ستمبر کو ہدایت کاروں، پروڈیوسرز، دی گارڈیئن کے صحافیوں اور سرکاری وفد کی موجودگی میں پیش کی جائے گی۔

نازا کو دی گارڈیئن اور جیمز ولسن کی کمپنی جے ڈبلیو فلمز نے پروڈیوس کیا ہے، جبکہ آسکر ایوارڈ یافتہ فلم دی زون آف انٹرسٹ کے ہدایت کار جوناتھن گلیزر اس کے ایگزیکٹیو پروڈیوسر ہیں۔

رپورٹ کے مطابق نازا ایک اسرائیلی فوجی مخفف ہے، جسے اسرائیلی انٹیلی جنس مبینہ طور پر فضائی حملے میں متوقع شہری ہلاکتوں کی تعداد کے لیے استعمال کرتی ہے۔

واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023ء کو حماس کے اسرائیل پر حملے میں 1221 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 251 افراد کو یرغمال بنا کر غزہ لے جایا گیا۔

اس کے بعد اسرائیلی فوج کی غزہ میں شروع کی گئی کارروائی میں غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 73 ہزار سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں۔

 اکتوبر میں جنگ بندی کے باوجود جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات میں پیش رفت تعطل کا شکار ہے، جبکہ اسرائیلی فورسز اس وقت غزہ کے تقریباً 70 فیصد علاقے پر کنٹرول رکھتی ہیں۔