نیوزی لینڈ کی حکومت 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کے لیے آج پارلیمنٹ میں بل پیش کرے گی۔
خبر ایجنسی کے مطابق بل کے تحت قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ان کی عالمی آمدن کے 10 فیصد تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔
مجوزہ قانون کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو صارفین کی عمر کی تصدیق کے لیے مناسب اقدامات کرنا ہوں گے، جن میں موجودہ اکاؤنٹ معلومات، چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل شناختی دستاویزات کا استعمال شامل ہو سکتا ہے۔
نیوزی لینڈ کے وزیراعظم کرسٹوفر لکسن نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا بچوں کو نقصان دہ مواد، لت لگانے والی ٹیکنالوجی اور ایسے دباؤ سے دو چار کر رہا ہے جس سے نمٹنے کے لیے وہ تیار نہیں۔
وزیرِ اعظم نیوزی لینڈ کا یہ بھی کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے اثرات بچوں کی ذہنی صحت، نیند، تعلیم اور خاندانی زندگی پر پڑ رہے ہیں۔