ایران نے امریکا کی جانب سے نئی اور سخت معاشی پابندیوں کے اعلان سے قبل خبردار کیا ہے کہ جو بھی ملک واشنگٹن کی ’معاشی جنگ‘ میں شامل ہوا، اسے ایران دشمن تصور کرے گا۔
تہران نے واضح کیا ہے کہ پہلے ایسے ممالک سے مذاکرات کیے جائیں گے تاہم اگر وہ امریکا کا ساتھ جاری رکھتے ہیں تو ایران ان کے مفادات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
ایرانی سیکیورٹی حکام نے آبنائے ہرمز اور خلیج سے تیل کی برآمد مکمل طور پر روکنے سمیت دیگر جوابی اقدامات کا بھی عندیہ دیا ہے۔
ایران کی نئی عسکری حکمت عملی کیا ہے؟
عرب میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی امور کے ماہر حامد رضا عزیزی کا کہنا ہے کہ تہران اب ممکنہ حملے یا معاشی دباؤ سے پہلے ہی اپنے ردِعمل کا پیغام دے کر مخالفین کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کے مطابق ایران کی نئی حکمتِ عملی میں پیشگی کارروائی اور غیر متناسب جوابی حملہ شامل ہو سکتا ہے جس کا مقصد کسی بھی مخالفانہ اقدام کی قیمت بہت زیادہ بڑھانا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق ایرانی دھمکی کو خلیجی ممالک کے لیے ایک واضح انتباہ اور دباؤ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
کیا خلیجی ممالک امریکا کا ساتھ دیں گے؟
عرب میڈیا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خلیجی ممالک ایران کے پڑوسی ہونے کے ساتھ امریکا کے اہم اتحادی بھی ہیں، اس لیے وہ دونوں جانب سے بڑھتے دباؤ کے درمیان پھنس گئے ہیں۔
ایرانی حملوں اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں نے ان ممالک کی تیل اور گیس کی برآمدات کو متاثر کیا ہے۔
رپورٹ میں شامل کیے گئے تجزیے کے مطابق خلیجی ریاستیں ایران کے ساتھ مکمل محاذ آرائی سے گریز کرنا چاہتی ہیں کیونکہ جغرافیائی طور پر ان ریاستوں کو ایران کے ساتھ ہی رہنا اور تجارت کرنا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے 2022ء میں ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کیے تھے تاہم گزشتہ ہفتے ایران پر میزائل حملے کا الزام عائد کرتے ہوئے ایران کے ساتھ تجارت روک دی ہے جبکہ ایران نے حملے کی ذمے داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔
سعودی عرب اور ایران نے بھی 2023ء میں چین کی ثالثی سے تعلقات معمول پر لانے کا معاہدہ کیا تھا۔
امریکا کا ایران پر نیا معاشی دباؤ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اب تک کی سخت ترین معاشی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی ایران کے تجارتی شراکت داروں پر دباؤ بڑھانے کا عندیہ دیا ہے۔
امریکا خاص طور پر چین سے ایران کے خلاف تعاون چاہتا ہے کیونکہ چین ایران کی تیل برآمدات کا 80 فیصد سے زیادہ خریدتا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ وہ امریکی معاشی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا جبکہ واشنگٹن کا مقصد ایران کے معاشی وسائل اور عالمی تجارت تک ایران کی رسائی محدود کرنا ہے۔
آبنائے ہرمز ایران کا بڑا ہتھیار
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر خلیجی ممالک امریکا کی معاشی جنگ میں شامل ہوئے تو خلیج سے تیل کی برآمد روک دی جائے گی۔
تہران نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے علاوہ خلیج سے تیل کی برآمد کے متبادل راستوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے، اس دھمکی کو بحیرۂ احمر تک جانے والے باب المندب کے راستے کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا انتہائی اہم راستہ ہے جہاں معمول کے حالات میں دنیا کے تیل اور گیس کے تقریباً 20 فیصد حصے کی نقل و حمل ہوتی ہے۔