مون سون کے دوران ان غذاؤں سے فوڈ پوائزننگ کا خدشہ

بارش کے موسم میں ہوا میں نمی بڑھ جاتی ہے، جو بیکٹیریا اور فنگس کی افزائش کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتی ہے۔

تاہم طبی ماہرین کے مطابق مون سون میں درج کچھ غذاؤں کے استعمال میں خاص احتیاط برتنی چاہیے۔ 

گلی محلوں اور ٹھیلوں پر کھلے بکے والے پھل اور سلاد آسانی سے فضا میں موجود جراثیم اور آلودہ پانی کی زد میں آ جاتے ہیں۔

ان کے علاوہ پتے دار سبزیوں کے پتوں کی تہوں میں نمی کی وجہ سے کیڑے، مٹی اور بیکٹیریا چھپے رہتے ہیں، جنہیں صحیح طرح دھوئے بغیر کھانا خطرناک ہو سکتا ہے۔

مون سون مچھلیوں اور دیگر سمندری حیاتیات کی افزائشِ نسل کا موسم ہوتا ہے، اس لیے اس سیزن میں آلودہ پانی کی وجہ سے سی فوڈ سے فوڈ پوائزننگ کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

سموسے، پکوڑے اور گول گپوں کے لیے بار بار استعمال ہونے والا تیل اور آلودہ پانی پیٹ کے شدید انفیکشن کا باعث بن سکتا ہے۔

دودھ، دہی اور پنیر گرمی اور نمی میں تیزی سے خراب ہوتے ہیں، جس سے ان میں حیاتین اور بیکٹیریا پیدا ہو جاتے ہیں۔

اسی طرح سڑک کنارے ملنے والے مشروبات میں استعمال ہونے والی برف عموماً صاف پانی سے نہیں بنائی جاتی جو ہیضہ اور ٹائیفائیڈ کا سبب بنتی ہے۔

علاوہ ازیں مون سون میں آدھا پکا گوشت یا انڈے کھانے سے بیکٹیریا جسم میں داخل ہو کر شدید فوڈ پوائزننگ کرتے ہیں۔