شوہر کے ہاتھوں قتل ہونیوالی حنا جاوید والدین کو دکھ پہنچنے کے ڈر سے تشدد سہتی رہی

پنجاب کے شہر راولپنڈی میں شوہر نے مبینہ طور پر والد اور ملازم کے ساتھ مل کر اپنی بیوی کو قتل کر دیا، ملزم فیصل اصغر کو جنسی ہراسانی کے الزام میں اسلام آباد کی 2 یونیورسٹیز سے برطرف کیا جا چکا ہے۔

حنا جاوید کی شادی 9 ماہ قبل فیصل اصغر سے ہوئی، شوہر نے کئی بار مارا پیٹا مگر حنا اس ڈر سے خاموش رہی کہ بستر مرگ پر پڑے اس کے والدین کو دکھ نہ پہنچے۔ یہی خاموشی شاید اس کے شوہر کو مزید سفاک بناتی چلی گئی اور پھر اس نے حنا کا بہیمانہ قتل کر دیا۔

ایف آئی آر کے مطابق حنا کی لاش باتھ روم سے ملی، ہاتھ پیچھے کی جانب بندھے تھے، چہرے اور جسم پر تشدد کے نشانات واضح تھے، گلے پر ایک تار لپٹی ہوئی تھی اور گردن بظاہر ٹوٹی ہوئی تھی، منہ سے خون اور جھاگ نکل رہے تھے۔

مقتولہ کے شوہر کی یہ دوسری شادی تھی، پہلی بیوی نے مبینہ گھریلو تشدد اور اذیتوں کے باعث طلاق لے لی تھی۔

تھانہ سول لائن پولیس نے مقتولہ کے بھائی فہد جاوید کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے حنا کے شوہر اور ملازم کو گرفتار کر لیا ہے، پولیس کے مطابق حنا کا پوسٹ مارٹم کروایا جا چکا ہے، رپورٹ کا انتظار ہے، جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرکے واقعہ کے تمام پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

مقتولہ کے سسر اصغر علی کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے تاہم متاثرہ خاندان کے مطابق اسے تاحال گرفتار نہیں کیا گیا۔