غزہ میں جنگ کے سائے تلے بھی زندگی کے رنگ برقرار ہیں۔ ایک فلسطینی شادی میں خاندان کی کئی نسلیں دبکے کی مشق اور روایتی گیتوں کے ساتھ جشن کی تیاری کرتی نظر آئیں۔
روایتی ساز مجرون کی آواز نے تقریب میں مزید رنگ بھر دیا۔ بزرگوں سے سیکھے گئے رقص کے یہ قدم اب بچوں تک منتقل ہو رہے ہیں، جو فلسطینی ثقافت کی نسل در نسل بقا کی علامت ہیں۔
جنگ، بےگھری اور مسلسل غیر یقینی کے درمیان یہ شادی خاندانوں کے لیے چند لمحوں کی خوشی اور معمول کی زندگی کی واپسی کا موقع بنی ہے۔